کلام محمود مع فرہنگ — Page 232
103 یوں اندھیری رات میں اسے چاند تو چپکا نہ کہ حشراک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر کیا لب دریا میری بے تابیاں کافی نہیں تو جگر کو چاک کر کے اپنے یوں توڑیا نہ کر دُور رہنا اپنے عاشق نے ہمیں دیتا ہے زیب آسماں پر بیٹھ کر تو یوں مجھے دیکھا نہ کر عکس تیرا چان میں گر دیکھ لوں کیا عجیب ہے اس طرح تو چاند سے اے میری جاں پردہ نہ کر بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس آگے آگے چاند کی مانند تو بھا گا نہ کر اے شُعاع نور یوں ظاہر نہ کر میرے ٹیوب غیر میں چاروں طرف ان میں مجھے رسوا نہ کر غیر ہے محبت ایک پاکیزہ امانت اے عزیز عشق کی عزت ہے واجب عشق سے کھیلا نہ کر واجب ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی جائیٹ جاہر سے دریا کی کچھ پروا نہ کر نوٹ۔اس نظم سے متعلق حضرت مصلح موعود کا مفصل نوٹ صفحہ 388 پر ملاحظہ فرمائیے 230 اخبار الفضل جلد 6۔28 جولائی 1940 ء