کلام محمود مع فرہنگ — Page 231
ارتباط عاشق و معشوق کے سامان کر پھر مری بگڑی بنا دے ہاں بنا دے آج تو مُطرب عشق و محبت گوش بر آواز ہوں نغمۂ شیریں سُنا دے ہاں سُنا دے آج تُو یا محمد دلبرانم از عاشقانِ رُوئے تست مجھ کو بھی اس سے ملا دے ہاں ملا دے آج تو دست کوتا من کجا آمار فردوسی کجا شارخ طوبی کو ہلا دے ہاں ہلا دے آج تو درس اُلفت ہی نہ کر پایا تو کیا پایا بتا رحیت کے سکھا دے ہاں سکھا دے آج تُو اخبار الفضل جلد 28 - 4 جنوری 1940ء 229