کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 228

101 ہم کس کی محبت میں دوڑے چلے آئے تھے وہ کون سے رشتے تھے جو کھینچ کے لائے تھے آخر وہ ہوئے ثابت پیغام ہلاکت کا جو غمزے مرے دل کو بے حد ترے بھائے تھے جن باتوں کو سمجھے تھے بُنیاد ترقی کی جب غور سے دیکھا تو مٹتے ہوئے سائے تھے اکسیر کا دیتے ہیں اب کام دُہ دُنیا میں خونِ دلِ عاشق میں جو تیر بجھائے تھے تھا غرق گنہ لیکن پڑتے ہی جگہ اُن کی اشک آنکھوں میں اور ہاتھوں میں کوش کے پائے تھے یہ جسم مرا سر سے پا تک جو مُعَطَّہ ہے راز اس میں ہے یہ زاہد وہ خواب میں آئے تھے اس مریم فردوسی میں حق ہے ہمارا بھی کچھ زخم تری خاطر ہم نے بھی تو کھائے تھے اخبار الفضل جلد 28 - 3 جنوری 1940ء 226