کلام محمود مع فرہنگ — Page 227
100 نہیں کوئی بھی تو مُناسبت رہ شیخ و طرز آیاز میں اُسے ایک آہ میں مل گیا نہ ملا جو اس کو نماز میں جو ادب کے حُسن کی بجلیاں ہوں چمک رہی کف ناز میں تو نگا حُسن کو کچھ نہ پھر نظر آئے رُوئے نیاز میں تجھے اس جہان کے آئنہ میں جمالِ یار کی جستجو مجھے سو جہان دکھائی دیتا ہے چشم آئنہ سازیں نظر آ رہا ہے وہ جلوہ حسنِ ازل کا شمع حجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشق مجاز میں مرا عشق دامنِ یار سے ہے کبھی کا جاکے لپٹ رہا تری عقل ہے کہ بھٹک رہی ہے ابھی نشیب فراز میں تیرے جام کو مرے خون سے ہی ملا ہے رنگ بہ دلفریب ہے یہ اضطراب یہ زیر و بم مرے سوز سے ترے ساز میں 225 اخبار الفضل جلد 28 - 3 جنوری 1940ء