کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 1

1 اپنے گرم نے بخش دے میرے خدا مجھے بیمار عشق ہوں ترا دے تو شیفا مجھے جب تک کہ دم میں دم ہے اسی دین پر ہوں اسلام پر ہی آئے جب آئے قضا مجھے کے کس نواز ذات ہے تیری ہی اسے خدا آتا نظر نہیں کوئی تیرے سوا مجھے منجمد تیر فضل وکرم کے ہے یہ بھی ایک عیسی مسیح سا ہے دیا رہنما مجھے تیری رضا کا ہوں میں طلب گار ہر گھڑی گھر یہ ملے تو جانوں کہ سب کچھ ملا مجھے ہاں ہاں نگاہ رحم ذرا اس طرف بھی ہو بھر گنہ میں ڈوب رہا ہوں بچا مُجھے موسی کے ساتھ تیری رہیں کن ترانیاں نہار میں نہ مانوں گا چہرہ دکھا مجھے مجھے احسان نہ تیرا بھولوں گا تا زیست اسے سے پہنچا دے گر تو یار کے در پر ذرا سجدہ کناں ہوں در پہ ترسے اسے مرے خدا اُٹھوں گا جب اٹھانے گی یاں سے قضا مجھے ڈوبا ہوں بحر عشق الہی میں شاد یکیں کیا دے گا خاک فائدہ آب بقا مجھے 1 رساله تشحمید الاذبان ماہ اگست 1916 ء۔نے نظم 1903ء کی ہے جب آپ شاد تخلص رکھتے تھے۔