کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 190

مرے ہمراز سب دنیا کا کام اس میں پر ہے چلتا مگر میں بھی تبھی ہوتی ہے جب ہو سامنا تو کا بھلا وہ کیا کریں میں کو جو اُن کی یاد سے اُتریں ول مایوس سینہ میں اندھیرا چاروں جانب ہمیں نہ آنکھیں ہیں رکھ پائیں نہ کر یں جن سے اڑھائی نہ احساس انانیت کہ اس کے زور سے پہنچیں میرے دلدار ہم پر بند ہیں سب وصل کی راہیں سوا اس کے کہ اب خود آپ ہی کچھ لطف فرمائیں ہمارے سیکیوں کا آپ کے بن کون ہے پیارے نظر آتے ہیں مارے غم کے اب تو دن کو بھی تارے نہیں دل اپنے سینوں میں دھرے ہیں کہ انگارے چھنکے جاتے ہیں سرسے پاؤں تک ہم ہجر کے مارے دھرے انکی بس اب تو رحم فرمائیں چلے آئیں چلے آئیں اخبار الفضل جلد 14-28 ستمبر 1926ء 188