کلام محمود مع فرہنگ — Page 189
79 میرے ہمراز بیشک دل محبت کا ہے پیمانہ ہے اس کا حال رندانہ تو اس کی چال مستانہ کئے جاں بخش مٹتی ہے جہاں ہے یہ وہ میخانہ مگر وہ کیا کرے جس کا کہ دل ہو جائے ویرانہ نظر آئیں تمت اؤں کی چاروں سمت میں قبریں مرے ہمراز کہتے ہیں کہ اک شے نور ہوتی ہے جب آتی ہے تو تاریکی معا کافور ہوتی ہے علاج کر رنج وظلم ہائے دل رنجور ہو تی ہے طبیعت کتنی ہی افسردہ ہو کنٹرور ہوتی ہے مگر ہم کیا کریں جن کے کہ دن بھی ہوگئے راتیں میرے ہمراز آنکھیں بھی خُدا کی ایک نعمت ہیں ہزاروں دوستیں قربان ہوں جس پر وہ دولت ہیں بنائے جہنم میں سچ ہے کہ باب علم و حکمت ہیں مثالِ خضر ہمراہ طلب گار زیارت ہیں مگر وہ منہ نہ دکھلائیں تو پھر ہم کیا کریں آنکھیں وہ خوش قسمت ہیں جوگر پڑ کے اس مجلس میں جانچے کبھی پاؤں پر سر رکھا کبھی دائن سے جالیئے مغرض جس طرح بن آیا مطالب اُن سے منوائے مرے ہمراز ا پر وہ پر شکست کیا کریں جن کے ہوا میں اُڑ گئے نالے ،گئیں بے کار فریا دیں بجا ہے ساری دنیا ایک لفظ میں کا ہے نقشہ جدھر دیکھو چنگ اس کی جدھر دیکھو ظہور اس کا 187