کلام محمود مع فرہنگ — Page 184
75 پوچھو جو ان سے زُلف کے دیوانے کیا ہوئے فرماتے ہیں کہ میری بلا جانے کیا ہوئے اے شمع رو بتا تیرے پروانے کیا ہوئے کل قبل کے مر رہے تھے جو دیوانے کیا ہوئے جل غم خانہ دیکھتے تھے جو آنکھوں میں یار کی تھے بے پینے کے مست جوستا نے کیا ہوئے جن پر ہر اک حقیقت مخفی تھی منکشف وہ واقفان راز وہ فرزانے کیا ہوئے سب لوگ کیا سبب ہے کہ بے کیف ہو گئے ساتی کدھر کو چل دیئے میخانے کیا ہوئے ابواب بغض و غذر وشقاوت میں کھل رہے عشق و وفا و مہر کے افسانے کیا ہوئے اُمید وضل حسرت و غم سے بدل گئی نقشِ قدوم یارخُدا جانے کیا ہوئے' 1- اس نظم میں پہلا شعر حضور کی حرم محترم حضرت امہائی کا منتخب کردہ ہے باقی شعرحضور کے اپنے ہیں اخبار الفضل جلد 13-12 اگست 1925 ء 182