کلام محمود مع فرہنگ — Page 172
68 اہل پیام ! یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو بعض احباب وفاکیش کی تحریروں سے میرے آتے ہی ادھر تم پر کھلا ہے یہ راز تم بھی میدان دلائل کے ہو کرن بیروں سے تم میں وہ زور وہ طاقت ہے اگر چاہو تو چھلنی کر سکتے ہو تم پشت عدد تیروں سے آزمائش کے لیے تم نے چُنا ہے مجھ کو پشت پر ٹوٹ پڑے ہو مری شمشیروں سے مجھ کو کیا شکوہ ہو تم سے کہ میرے دشمن ہو تم یونہی کرتے چلے آئے ہو جب پیروں سے حق تعالے کی حفاظت میں ہوں میں یاد ہے وہ بچائے گا مجھے سارے خطا گیروں سے میری تنبت میں لگا لوجو لگانا ہو زور تیر بھی پھینکو کرو جملے بھی شمشیروں سے 170