کلام محمود مع فرہنگ — Page 171
سارے جہاں کے ظلم کیوں ٹوٹتے ہیں تھی یہ آج بڑھ گیا حد صبر سے عرصہ رامتحان کیوں تیری زمیں ہے رہن کیوں ہاتھ میں گہر سخت کے تیری تجارتوں میں سے صبح و مسا زبان کیوں کسب معاش کی رہین تیری ہر اک گھڑی ہے جب تیرے عزیز پھر بھی ہیں فاقوں سے نیم جان کیوں کیوں ہیں یہ تیرے قلب پر کفر کی چیرہ دستیاں دل سے ہوئی ہے تیرے محموخضلَتِ امتنان کیوں خُلق تیرے کدھر گئے خُلق کو جن پہ ناز تھا دل تیرا کیوں بدل گیا بگڑی تری زبان کیوں تجھ کو اگر خبر نہیں اس کے سبب کی مجھ سے سُن تجھ کو بتاؤں میں کہ برگشتہ ہوا جہان کیوں منبع امن کو جو تو چھوڑ کے دور چل دیا تیرے لیے جہان میں امن ہو کیوں آمان کیوں ہو کے غلام تو نے جب رسم وداد قطع کی اخبار الفضل جلد 12 - - 23 اگست 1924ء اس کے غلام در جو میں تجھ پہ ہوں مہربان کیوں 169