کلام محمود مع فرہنگ — Page 160
63 پردۂ زلف دو تاریخ سے ہٹالے پیارے ہجر کی موت سے اللہ بچائے پیارے چادر فضل و عنایت میں چھپالے پیارے مجھے گنہ کار کو اپنا ہی بنالے پیارے نفس کی قید میں ہوں مجھ کو چھڑالے پیارے غرق ہوں بھر معاصی میں بچالے پیارے تو کہے اور نہ مانے میرا دل ناممکن کس کی طاقت ہے ترے حکم کوٹالے پیارے جلد آ جلد کہ ہوں لشکر اعداد میں گھرا پڑے ہیں مجھے اب جان کے لالے پیارے فضل کر فضل کہ میں یکہ و تنہا جاں ہوں میں مقابل یہ حوادث کے رسالے پیارے رہ چکے پاؤں نہیں جسم میں باقی طاقت رحم کر گود میں اب مجھ کو اٹھالے پیارے غیر کو سونپ نہ دیجو کہ کوئی خادم در کر گیا تھا ہمیں تیرے ہی حوالے پیارے دشت و کوہسار میں جب آئے نظر معلوہ حُسن تیرے دیوانے کو پھر کون سنبھالے پیارے کیوں کروں فرق یونسی دونوں مجھے کہاں ہیں سب تھے بندے نہیں گئے ہوں کہ کالے پیارے ہو کے کنگال جو عاشق ہو رخِ سُلطاں پر حوصلے دل کے وہ پھر کیسے نکالے پیا۔مجھ سے بڑھ کے میری حال کو یہ کرتے ہیں یہاں منہ سے گو چپ میں میرے پاپس کے چھالے پیارے ظاہری دکھ ہو تو لاکھوں ہیں خدائی موجود دل کے کانوں کو مگر کون نکالے پیارے ہم کو اک گھونٹ ہی دے صدق میں میخانہ کے پی گئے لوگ مئے وصل کے پیالے پیارے 159