کلام محمود مع فرہنگ — Page 139
اپنے الہام پہ نازاں نہ ہو اے طفل سلوک تیرے بہکانے کو آیا کہیں شیطان نہ ہو کیا یہ ممکن ہے کہ نازل ہو کلام قادر ظاہر اس سے مگر اللہ کی کچھ شان نہ ہو تم نے منہ پھیر لیا اُن کے اُلٹتے ہی نقاب کیا یہ ممکن ہے کہ دنبر کی بھی پہچان نہ ہو اس میں جو بھول گیا دونوں جہانوں سے گیا کوچه عشق میں داخل کوئی انجان نہ ہو ہجر کے درد کا درماں نہیں ممکن جب تک برگ اعمال نہ ہوں شربتِ ایمان نہ ہو نہ تو ہے زاد نہ ہمت نہ ہی طاقت نہ رفیق میرے جیسا بھی کوئی بے سرو سامان نہ ہو کس طرح جانیں کہ ہے عشق حقیقی تم کو جیب پارہ نہ ہو گر چاک گریبان نہ ہو 138