کلام محمود مع فرہنگ — Page 138
53 یا دھں دل میں ہو اس کی وہ پریشان نہ ہو ذکر جس گھر میں ہو اس کا کبھی ویران نہ ہو حیف اس سر یہ کہ جو تابع فرمان نہ ہو تف ہے اس دل پر کہ جو بندہ احسان نہ ہو مسلم سوختہ دل ! یونہی پریشان نہ ہو مجھ پہ اللہ کا سایہ ہے ہراسان نہ ہو وقت حسرت نہیں یہ ہمت و کوشش کا ہے وقت عقل و دانائی سے کچھ کام لئے نادان نہ ہو رب افواج خود آتا ہے تری نصرت کو باندھ لے اپنی کمر بسنده کرمان نہ ہو اُٹھ کے دشمن کے مقابل پہ کھڑا ہو جا تو اپنے احباب سے ہی دست و گریبان نہ ہو یاد رکھ لیک کہ غلبہ نہ ملے گا جب تک دل میں ایمان نہ ہو ہاتھ میں قرآن نہ ہو 137