کلام محمود مع فرہنگ — Page 134
مٹا کے کفر و ضلال و بدعت کریں گے آثار ہیں کو تازہ خُدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کے پرچم اُڑائیں گے ہم خبر بھی ہے کچھ تجھے او ناداں کہ مردم چشم یار ہیں ہم اگر ہمیں گنے نظر سے دیکھا تو تجھ پر بجلی گرائیں گے ہم دہ شہر جو کفر کا ہے مرکزہ ، ہے جس پر دین مسیح نازاں خُدائے واحد کے نام پر اک اب اس میں مسجد بنائیں گے ہم پھر اس کے مینار پر سے دنیا کو حق کی جانب بلائیں گے ہم کلام رب رحیم و رحماں ببانگ بالا سنائیں گے ہم 133 * 1920 اخبار الفضل - جلد 7 - 19