کلام محمود مع فرہنگ — Page 133
پڑے ہیں پیچھے جو فلسفے کے انہیں خبر کیا ہے کہ عشق کیا ہے مگر ہیں ہم رہبر و طریقت شمارِ الفت ہی کھائیں گے ہم سمجھتے کیا ہو کہ عشق کیا ہے یہ عشق پیارو کٹھن بلا ہے جو اس کی فرقت میں ہم پر گزری کبھی وہ قصہ سُنائیں گے ہم ہمیں نہیں عطر کی ضرورت کہ اس کی خوشبو ہے چند روزہ بُوئے محبت سے اس کی اپنے دماغ و دل کو بسائیں گے ہم ہمیں بھی ہے انتیکت تلمذ کسی مسیحا نفس سے حاصل نہوا ہے بے جان گو کہ مسلم مگر اب اس کو چلائیں گے ہم مٹا کے نقش و نگار دیں کو یونہی ہے خوش دشمن حقیقت جو پھر کبھی بھی نہ مٹ سکے گا اب ایسا نقشہ بنائیں گے ہم خُدا نے ہے خضر رہ بنایا ، ہمیں طریق محمدی کا جو بھولے بھٹکے ہوئے ہیں ان کو صنم سے لاکر ملائیں گے ہم ہماری ان خاکساریوں پر نہ کھائیں دھوکا ہمارے دشمن جو دیں کو ترچھی نظر سے دیکھا تو خاک اُن کی اُڑائیں گے ہم 132