کلام محمود مع فرہنگ — Page 123
ہیں تیرا در چھوڑ کر کہاں جائیں کس سے جا کر طلب کریں انداد چاروں اطراف سے گھرے ہیں ہم آگے پیچھے ہمارے ہیں محتاد ہے ادھر پاکسش گنشتگی کی قید اور اُدھر سر پہ آ گیا میاد زلزلوں سے ہماری ہستی کی ہل گئی سر سے پا تلک بنیاد کچھ تو فرمائیے کریں اب کیا کچھ تو اب کیجئے ہمیں ارشاد کب تلک بے گنہ رہیں گے ہم تخصیہ مشق بازوئے جلاد کب حلیم فریب ٹوٹے گا کب گرے گا وہ پنجہ فولاد ان دکھوں سے نجات پائیں گے کب ہوں گے کب ان غموں سے ہم آزاد کب رہا ہو گی قید سے فطرت دُور کب ہو گا دورِ استبداد شان اسلام ہوگی کب ظاہر کب مسلمان ہوں گے خرم وشاد پوری ہوگی یہ آرزو کس وقت کب بر آئے گی یہ ہماری مراد میں بھی کہتا ہوں آج مجھ سے وہی جو ہیں پہلے سے کہہ گئے اُستاد نام لیوا رہے گا تیرا کون ہم اگر ہو گئے یونہی برباد کون ہو گا فدا ترے رخ پر کون کہلائے گا تیرا فرہاد کون رکھے گا پھر امانت عشق کیس کے دل میں رہے گی تیری یاد 123