کلام محمود مع فرہنگ — Page 122
47 آہ دُنیا پر کیا پڑی اُفتاد دین و ایمان ہوگئے برباد مہر اسلام ہو گی مخفی سارے عالم پہ چھا گیا ہے سواد آج مسلم میں رنج وغم سے چور اور کافر میں عنده زن دلشاد روح اسلام ہو گئی محصور کفر کا دیو ہو گیا آزاد جو بھی ہے دشمن صداقت ہے دین حق سے ہے اس کو بغض و عناد جھوٹ نے خوب سر نکالا ہے ہے صداقت کی ہل گئی بنیاد دشمنان شریعت حقه چاہتے ہیں تغلب و افساد اس ارادے پہ گھر سے نکلے ہیں دینِ اسلام کو کریں برباد ہے ہمارے علاج کا دعومی کہتے ہیں اپنے آپ کو قضاد مگر اس قصد کے بہانے سے کر رہے ہیں وہ کارِ صد جلاد ستم و جور بڑھ گیا حد سے انتہا سے نکل گئی ہے داد ہے غَضَبْ ہیں وہ شائق بیداد پھر ستم یہ کہ ہیں ستم ایجاد پھر یہ ہے قہر ظلم کر کے وہ خود ہمیں سے ہیں ہوتے طالب داد اے خدا اے شہ مکین ومکاں قادر و کارساز و ربّ عباد دینِ احمد کا تو ہی ہے بانی پس تجھی سے ہماری ہے فریاد 122