کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 104

اپنی مرضی کا ہے وہ مالک توئیں محکوم ہوں میری کیا طاقت کہ پاؤں زور سے درگاہ میں بار عزت افزائی ہے میری گر کوئی از شاد ہو فخر ہے میرا جو پاؤں رُتبہ خدمت گزار طالب دنیا نہیں ہوں طالب دیدار ہوں تب جگر ٹھنڈا ہو جب دیکھوں رُخ تابان یار کہتے ہیں بہرِ خرید یوسف فرخنده فال ایک بڑھیا آئی تھی با حالت زار و نزار ایک گالا روٹی کا لائی تھی اپنے ساتھ وہ اور یوسف کی خریداری کی تھی اُمیدوار وہ تو کچھ رکھتی بھی تھی پر میں تو خالی ہاتھ ہوں بے عمل ہوتے ہوئے ہے جستجوئے دست یار ہوں غلامی میں مگر ہے عشق کا دعوئی مجھے چاکروں میں ہوں مگر ہے خواہش قرب و جوار 104