کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 84

36 عہد شکنی نہ کرو اہل وفا ہو جاؤ اہلِ شیطاں نہ بنو اہل خُدا ہو جاؤ گرتے پڑتے در مولیٰ پر رکا ہو جاؤ اور پروانے کی مانند فدا ہو جاؤ جو ہیں خالق سے خفا اُن سے خفا ہو جاؤ جو ہمیں اس در سے جُدا اُن سے جُدا ہو جاؤ حق کے پیاسوں کے لیے آب بقا ہو جاؤ خُشک کھیتوں کے لیے کالی گھٹا ہو جاؤ غنچہ دیں کے لیے باد کیا ہو جاؤ کفر و بدعت کے لیے دستِ قضا ہو جاؤ قضاہو سر فرو رُو بروئے کاور مختصر جاؤ کاش تم حشر کے دن عہدہ برآ ہو جاؤ دَاوَرٍ تم بادشاہی کی تمنا نہ کرو ہرگز تم کوچہ یار یگانہ کے گدا ہو جاؤ بگیر عرفان میں تم غوطے لگاؤ ہردم بانی کعبہ کی تم کاش دُعا ہو جاؤ وضل مولی کے جو بھو کے ہیں انہیں سیر کرو وہ کرو کام کہ تم خوان بدلی ہو جاؤ قلب کا کام دو تم ظلمت وتاریکی میں بھولے بھٹکوں کے لیے راہ نما ہو جاؤ یبہ مرقم کا فور ہو تم زخموں پر دل بیمار کے درمان و دوا ہو جاؤ طالبان سُرخ جاناں کو دکھاؤ دلبر عاشقوں کے لیے تم قبلہ نُما ہو جاؤ امر معروف کو تعویذ بناؤ جاں کا بے کسوں کے لیے تم عقدہ کشا ہو جاؤ 84