کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 11
بھاڑے کا ٹٹور کسی طرح نہ پہنچنے پائے۔کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ عوام الناس پر ان کی خداوندی کا طلسم اسی وقت تک قائم رہ سکتا ہے۔جب تک وہ اپنے دین سے مباہل رہیں۔یہ بھی ہماری مذہبی حالت جس نے انیسویں صدی میں ہم کو غلامی کی منزل تک پہنچانے میں بڑا حصہ لیا۔اور آج اس آزادی صبح آغاز میں بھی یہی حالت اپنی پوری قیامتوں کے ساتھ ہماری دامنگیر ہے۔اب اخلاقی حیثیت سے دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ عام طور پر اس زمانے ہیں ہما را طبقہ متوسط جو ہر قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔مسلسل اخلاقی انحطاط کی بدولت mercenary ) بن کر رہ گیا تھا۔اس کا اصول یہ تھا کہ جو بھی آجائے اُجرت پر اس کی خدمات حاصل کرے اور پھر جس مقصد کے لئے چاہے اس لیے کام کے لئے۔۔۔۔۔۔ہماری اس اخلاقی کمزوری سے ہمارے ہر دشمن نے فائدہ اٹھایا خواہ وہ مرہٹے ہوں ، سکھ ہوں۔فرانسیسی ہوں یا ولندیزی۔آخر کار انگریز نے آکر خود ہمارے ہی سپاہیوں کی تلوار سے ہم کو فتح کر لیا۔اور ہمارے ہی ہاتھوں اور دماغوں کی مدد سے ہم پر حکومت کی۔ہماری اخلاقی حس اس درجہ گند ہو چکی تھی کہ اس روش کی قیادت سمجھنا تو درکنار ہمیں آٹا اس پر فخر تھا چنانچہ ہمارا شاعر اسے اپنے خاندانی مفاخر میں شمار کرتا ہے۔ہ وشت سے ہے پیشہ آیا د سپہ گری۔