کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 10
پھر لکھتے ہیں :- ننھیال کی طرف سے میں ترکی الاصل ہوئی۔میرے نانا میرزا قربان علی بیگ خال سالات گوخود شاعر اور صاحب قلم تھے مگر پشتہا پشت سے ان کا پیشہ آباد سیہ گری تھا۔(ایضاً ص ۳۳-۳۳) آپنے تفصیل محض اپنے سوانح بیان کرنے کی غرض سے دی ہے۔ورنہ آپ اپنے ایک رسالہ مسلمانوں کا ماضی وحال میں گزشتہ صوفیا اور پیشہ ور سپرگروں کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ :- صوفیا کا حال دیکھئیے تو چند پاکیزہ ہستیوں کے سوا جنہوں نے اسلام کے حقیقی تصوف پر خود عمل کیا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دی۔باقی سب ایک ایسے تصوف کے معلم ومبلغ تھے۔جس سے اشتراقی اور ویدانتی اور مانوی اور زردشتی فلسفوں کی آمیزش ہو سکی تھی اور میں کے طریقوں میں جوگیوں اور راہبوں اور اشرافیوں اور رواقیوں کے طریقے اس طرح مل جیل گئے تھے۔کہ اسلام کے خالص عقائد و اعمال سے ان کو مشکل ہی سے کوئی مناسبت رہ گئی تھی پھر جب اگلوں کے بعد پچھلے ان کے سجادوں پر بیٹھے تو انہوں نے میراث میں دوسری املاک کے ساتھ اپنے بزرگوں کے مرید بھی پائے اور ان سے تربیت دارشاد کی بجائے صرف نذرانوں کا تعلق باقی رکھا۔ان حلقوں کی تمام تر کوشش پہلے بھی یہ رہی ہے اور آج بھی ہے کہ جہاں جہاں بھی ان کی پیری و پیر زادگی کا اثر پھیلا ہوا ہے وہاں دین کا صحیح علم