کافر کون؟

by Other Authors

Page 499 of 524

کافر کون؟ — Page 499

499 میرے سامنے کوئی ایک بھی سال ایسا نہیں آیا کہ احمدیت کی فتوحات کا دائرہ رک گیا ہو۔وہ برصغیر میں پھیلا ایشیا تک آیا اور پھر دنیا کے دوسرے براعظموں کی طرف مڑ گیا۔وہ لاکھوں سے کروڑوں میں آئے اور زمین سے نکل کر فضاؤں میں پھیل گئے۔بقول مصنف ” قادیانیت کا سیلاب اور ہماری حکمت عملی حقیقت یہ ہے کہ ہر آنے والا دن قادیانیت کو مزید عروج کی طرف لے کر جا رہا ہے اور قادیانیوں کا حلقہ اثر روز بروز پھیلتا جارہا ہے۔قادیانی سینکڑوں سے ہزاروں ہو گئے پھر ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی اور اب دنیا بھر میں قادیانیوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک جا پہنچی ہے“۔تاریخ احمدیت کی ترقی کی رفتار کو کیسے محفوظ کیا نقشہ پیش ہے۔دور امامیت 27 مئی 1908ء تا آخر 1908ء 30 مئی : خلیفتہ امسح الاول کے عہد میں صدر انجمن احمد ی کا پہلا اجلاس حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی صدارت میں ہوا۔حضور نے بیت المال کا مستقل محکمہ قائم فرما دیا۔یکم اگست : واعظین سلسلہ کے تقرر کے بعد پہلے واعظ شیخ غلام احمد صاحب کی روانگی۔$1909 یکم مارچ : مدرسہ احمدیہ کی مستقل درس گاہ کی حیثیت سے بنیا درکھی گئی۔اکتوبر : نیا اخبار نور جاری ہوا۔$1910 7 جنوری : حضرت میر قاسم صاحب نے دہلی سے اخبار الحق جاری کیا۔اکتوبر: یوپی میں مربیان احمدیت کے کامیاب دورے۔دسمبر : بورڈ نگ تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت کی بنیا د رکھی۔$1911 جنوری: حضرت میر قاسم علی نے رسالہ احمدی“ جاری کیا۔قادیان میں دارلضعفاء کا قیام حضرت میر ناصر نواب صاحب منتظم۔