کافر کون؟ — Page 498
498 خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقے کو غالب کرے گا اور میرے فرقے کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلاء آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔سواے سننے والو! ان باتوں کو یا درکھوان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ کر لو کہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔بانی جماعت کا یہ اعلان میں نے بار بار پڑھا۔قوموں کے احمدیت میں داخل ہونے اور سلسلہ کے زمین پر محیط ہو جانے اور تمام روکوں کے درمیان سے اٹھائے جانے کی پیش خبریاں ذہن میں مستحضر کیں اور ان باتوں کو خدائی کلام کے طور پر صندوقوں میں محفوظ رکھنے کے ارشاد کو غور سے یاد کیا اور پھر احمدیت کی تاریخ کے سفر پر چل پڑا۔تاریخ کے اس سفر پر میرے سامنے دوسری پیشگوئیاں بھی موجود رہی: اب افق ہند سے آفتاب اسلام طلوع ہورہا ہے جس کی ضیاء باریوں کے سامنے غلامانہ نبوت کی گھٹائیں نہیں ٹھہر سکتیں۔قادیانیت باقی رہے گی لیکن صفحہ عالم پر نہیں بلکہ کتابوں کے صفحہ قرطاس پر اور وہ بھی محض عبرت بن کر۔پھر یہ پیشگوئی بھی مجھے اچھی طرح مستحضر رہی : ”مرزائیت کے مقابلے کے لیے بہت سے لوگ اٹھے لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ یہ میرے ہاتھوں تباہ ہو“۔اسی طرح سے ایک دوسرے بزرگ کی یہ پیشگوئی بھی : اب قادیانیت کے سکڑنے بلکہ ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے“۔اس پس منظر کے ساتھ میں نے احمدیت کے سوسالوں کا سال بہ سال سفر کیا۔حاصل وصول مطالعہ کے طور پر میرے سامنے جو تصویر بنی وہ قرآن مجید کی اس آیت کی عملی تصویر تھی الله ولی الذین امنوا يخرجهم من الظلمات الى النور کہ جن کا دوست اللہ تعالیٰ بن جاتا ہے ان کے ہر دن میں اندھیروں سے روشنیوں کی طرف انتقال کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔