کافر کون؟

by Other Authors

Page 472 of 524

کافر کون؟ — Page 472

472 حجاز کے مبارک سفر مکتہ المکرمہ میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے ملاقات ہوئی جو ایک صحیح صاحب کشف انسان تھے جب ان کو میری آزاد اور بے باک طبیعت کا علم ہوا تو شدید اصرار اور تاکید سے حکم فرمایا کہ چونکہ عنقریب ہندوستان میں ایک فتنہ ظاہر ہونے والا ہے لہذا تم وطن واپس چلے جاؤ اگر بالفرض تم خاموش بھی رہے تو یہ فتنہ ترقی نہ کر سکے گا اور اس طرح ملک میں آرام رہے گا۔چنانچہ میں پورے وثوق کے ساتھ حاجی صاحب کے اس کشف کو مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتا ہوں۔( ملفوظات طیبه بحوالہ روز نامہ اوصاف یکم اکتوبر 1999 ء اشاعت خاص) 1881۔۔۔۔۔اہل حدیث لیڈر مولوی محمد حسین بٹالوی میں نے ہی مرزا قادیانی کو اونچا کیا تھا اور میں ہی اس کو گرا دوں گا“ (رساله اشاعته السنة حوالہ فکر اقبال اور تحریک احمدیت صفحہ 348) 1889۔۔۔۔جلد یہ فتنہ مضمحل ہو جائے گا۔۔۔مولانا انور شاہ کشمیری مولانا محمد انور شاہ کشمیری صاحب کے متعلق مولانا یوسف بنوری صاحب ارشاد فرماتے ہیں: میں نے خود حضرت رحمتہ اللہ سے سنا ہے کہ جب یہ فتنہ کھڑا ہوا تو چھ ماہ تک مجھے نیند نہیں آئی اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دین محمدی کے زوال کا باعث یہ فتنہ نہ بن جائے۔فرما یا چھ ماہ کے بعد دل مطمئن ہو گیا کہ انشاء اللہ دین باقی رہے گا اور فتنہ مضمحل ہو جائے گا“۔بن کر ہفت روزہ ختم نبوت 18 تا 24 دسمبر 1992 ء مضمون نگار مولانا یوسف لدھیانوی صفحه (11) 1934۔۔۔۔جلد قادیانیت صفحہ ہستی سے مٹ کر صرف کتابوں میں رہ جائے گی۔۔۔اخبار زمیندار لاہور اب افق ہند سے آفتاب اسلام طلوع ہو رہا ہے جس کی ضیاء باریوں کے سامنے غلامانہ نبوت کی گھٹائیں نہیں ٹھہر سکتیں۔قادیانیت باقی رہے گی۔لیکن صفحہ عالم پر نہیں بلکہ کتابوں کے صفحہ قرطاس پر اور وہ بھی محض عبرت۔۔۔۔۔۔پرچہ 30 ستمبر 1934 صفحہ 10 1935ء صرف میں اپنے ہاتھوں سے قادیانیت تباہ کروں گا۔۔۔۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری ”مرزائیت کے مقابلے کے لیے بہت سے لوگ اٹھے لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ یہ میرے ہاتھوں تباہ ہو۔(سوانح بخاری از خان کا بلی صفحه 100 نوٹ : یہ علیٰ جناب شورش کا شمیری نے 1974ء میں شائع کی۔ان کی ایک نظم کا احمدیوں کی تباہی کے متعلق