کافر کون؟ — Page 456
456 میجر جنرل مسعود الحسن نوری جیسے ماہرین، جنرل نیم احمد اور عقیل بن عبد القادر صاحب جیسے ماہرین امراض چشم۔قانون وانصاف کے شعبہ میں شیخ بشیر احمد صاحب حج پنجاب ہائی کورٹ ، چوہدری عزیز احمد باجوہ، قاضی عبدالحمید جیسے ماہر قانون دان۔اور اپنے شعبہ میں واحد بلکہ اپنے وقت میں دنیا بھر میں اکیلا ماہر لسانیات حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر جس نے ثابت کر دیا کہ عربی تمام زبانوں کی ماں ہے۔پاکستان کا پہلا کوہ پیما جس نے 2-K چوٹی سر کرنے کی کوشش کی کرنل عطاء اللہ صحافت میں روشن دین تنویر، قمر اجنالوی اور ثاقب زیروی کے نام نظر آتے ہیں۔غرضیکہ جس طرف نظر دوڑائیں اپنے اپنے شعبہ میں نمایاں کام کرنے والے احمدیوں کی خاصی تعداد ملے گی۔دفاع کے میدان میں تحریک پاکستان کی آواز ہو یا بین الاقوامی مذاکرات، اور 1965ء کا میدان کارزار ہو یا 1971ء کا محاذ جنگ۔جماعت احمدیہ کے جوان دیوانہ وار وطن کی آبرو کے لیے ہر میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیتے نظر آتے ہیں۔1۔1948ء کے جہاد کشمیر میں احمدی مجاہدین کی فرقان بٹالین نے پاک فوج کے شان بشانہ لڑتے ہوئے شاندار کارنامے سرانجام دیئے۔1965ء کی جنگ میں میجر جنرل افتقار جنجوعہ وہ پہلے فاتح کمانڈر تھے جنہوں نے رن کچھ کے محاذ پر دشمن کا وسیع علاقہ بغیر کسی نقصان کے حاصل کر لیا۔2 لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک نے 1965ء کی جنگ کے سب سے بڑے محاذ چھمب میں ہندوستانی افواج کو شکست دی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1965ء کی جنگ کے پہلے 2 ہلال جرأت احمدی جوانوں نے حاصل کئے۔3۔1965ء کی جنگ کے دوسرے بڑے محاذ چونڈہ کے محاذ پر لیفٹینٹ جنرل عبد العلی ملک نے ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ جیتی۔4۔11 ستمبر 1965ء کو سکوارڈن لیڈر منیر الدین احمد نے امرتسر میں نصب شدہ راڈار کو تباہ کیا جس سے پاک فضائیہ کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوگئی۔5۔1971ء کی جنگ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم ہوا کہ جنرل رینک کے دو فوجی آفیسر ز یعنی میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید اور میجر جنرل ناصر احمد زخمی ہوئے۔اسی طرح لیفٹنٹ کرنل بشارت احمد بھی اس رینک کے واحد آفیسر ہیں جنہیں جنگی قیدی بنایا گیا۔6۔ان قربانیوں کا تعلق آفیسرز سے ہی نہیں بلکہ نچلی سطح پر بھی ہر رینک کے احمدی مجاہد نے قربانیاں پیش