کافر کون؟

by Other Authors

Page 432 of 524

کافر کون؟ — Page 432

432 راہروی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ان میں سے بیشتر با اثر سیاست دانوں کی ملکیت ہیں ان میں ایسے سیاستدانوں کی اکثریت ہے جو اقتدار کے بدلتے ہی سیاسی وفاداریاں بھی بدل لیتے ہیں۔جبکہ چند سینما ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔کراچی کے ایسے سینماؤں میں دو کی ملکیت حاکم علی زرداری کی بتائی جاتی ہے۔جبکہ فیصل آباد کے چار سینما مالکان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے بتایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ صوبہ سرحد کے نیلی فلمیں دکھانے والے سینما بلور فیملی کی ملکیت ہیں۔لاہور سے تقریباً سات سینما اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں اور ان سب کی سر پرستی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کرتی ہے۔گوجرانوالہ کے پانچ سینماؤں میں کھلے عام نیلی فلمیں دکھائی جارہی ہیں ان سب سینماؤں کا تعلق پاکستان مسلم لیگ کے بااثر افراد سے ہے۔اسی طرح شیخو پورہ، گجرات ، اوکاڑہ، ملتان سرگودھا اور دیگر شہروں میں سیاست دانوں کی شہ پر نوجوان نسل کو گمراہ کیا جارہا ہے۔اسلام آباد پاکستان کا واحد شہر ہے جس کے چاروں سینما صرف صاف ستھری تفریح فراہم کر رہے ہیں جبکہ راولپنڈی کے کم از کم پانچ سینماؤں میں انگریزی اور پشتو زبان کی نیلی فلمیں دکھائی جارہی ہیں ان میں سے دوسینماؤں میں جرمن فلموں کے ٹوٹے دکھائے جارہے ہیں۔ان پانچوں سینماؤں میں دکھائی جانے والی فلمیں اس قدر مخش ہیں جنہیں میاں بیوی اکٹھے نہیں دیکھ سکتے۔راولپنڈی کے دوسینماؤں کے ٹھیکیداروں کا تعلق پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت سے ہے جو ہر بحران میں اپنا سیاسی اثر ورسوخ استعمال کر کے صاف بچ نکلتا ہے۔باقی سینماؤں کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی حاصل ہے ان میں سے دو سینما ایک ہی علاقہ مجسٹریٹ اور ایک ہی تھانہ کی حدود میں واقعہ ہیں۔ان میں سے ایک سینما میں خود علاقہ مجسٹریٹ صاحب اپنی شا میں رنگین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔(اوصاف 27 اپریل 1998 ء اسلام آباد ) تبصرہ گلی گلی محلے محلے بکھرے ویڈیوسنٹر،شہر شہر قریہ قریہ پھیلے سینما ہال اور ان کے ارد گرد گھومتے سینکڑوں نہیں ہزاروں نوجوان جرمن انگریز اور پشتو مستورات کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی یہ مخلوق خدا۔کیا یہ سب عین اسلامی حرکات ہیں اور یہ لوگ عین مسلم؟ کلمہ طیبہ کے بارے میں تو سکول سے گھر آکر بچی بتائے تو جذبات مجروح ہو جاتے ہیں مگر ان سینما جات کے بورڈ تو مال روڈ پنڈی ،صدر پشاور اور دیگر تمام اہم شاہراہوں پر دیکھے جاتے ہیں۔بلکہ روزانہ کی اخبارات میں گھر گھر پہنچائے جاتے ہیں صرف بالغوں کے لیے جنہیں بیگم اور بیٹی کی موجودگی میں دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔آخر کلمہ طیبہ پر جیل کی سلاخیں کب تک؟ 10۔اُدھر