کافر کون؟ — Page 431
431 روز نامہ اوصاف لکھتا ہے: پاکستان میں عریاں اور فحش فلموں کی نمائش پر چند گزارشات تین دہائی پہلے بھی مفاد پرست قو تیں اس گھناؤنے دھندے میں مصروف تھیں مگر اس دور میں اس مذموم کاروبار کوسیاسی خانوادوں کی سر پرستی حاصل نہ تھی اور نہ ہی ان گندی فلموں میں ہمیں اپنے ہی معاشرے کے فرد جنسی کمالات دکھاتے نظر آتے تھے مگر اب بعض پاکستانیوں نے اس شرمناک دھندے کو بھی باقاعدہ صنعت کا درجہ دے دیا ہے خصوصاً پشتو زبان کے فلمسازوں نے ایسی ایسی فلمیں بنالی ہیں جنہیں دیکھ کر مغربی پورنوگرافر ( بخش اور عریاں فلمیں بنانے والے ) بھی حیران ہیں۔ان نیلی فلموں کی نمائش کے سدباب کے لئے کسی بھی حکومت نے دور رس نتائج کی حامل منصوبہ بندی نہیں کی کبھی کبھار نیم دلی سے بعض سنیماؤں پر بلاشبہ چھاپے مارے گئے مگر ہر بار سینما مالکان کی بجائے نچلے درجے کے ملازمین کو گرفتار کیا گیا اور چھوٹے چھوٹے جرمانے کئے گئے۔مگر مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد نیلی فلموں کے نمائش کاروں نے نئے عزم اور انتظامات کے ساتھ پہلے سے زیادہ قوت سے اپنا کاروبار شروع کیا۔اس بار انہوں نے ممتاز اور موثر سیاست دانوں کی چھتری میں پناہ ڈھونڈی تھی اور بعض سیاستدانوں نے اس منافع بخش کاروبار میں خود کو عملی طور پر شامل کر لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نیلی فلموں کی نمائش کرنے والوں سینماؤں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ضیاء الحق کے مارشل لاء سے پہلے اس گھناؤنے بزنس میں صرف تیرہ چودہ سینما ملوث تھے جن کی تعداد اس وقت چار درجن سے تجاوز کر گئی ہے۔نیلی فلموں کی نمائش کاروں کی قوت کا رکا اندازہ اس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔سردار مہتاب خان عباسی نے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی عوام مطالبہ پر سرحد کے ایسے تمام سینما بند کرنے کا حکم دیا تھا جو کھلم کھلا نخش عریاں فلموں کی نمائش کاری میں مصروف تھے۔ان کے اس پہلے انتظامی حکم پر سر حد عوام نے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا مگر مسلم لیگ کی اس وقت کی حلیف سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ نے سردار مہتاب عباسی کے اس فیصلہ پر احتجاج شروع کیا تھا۔ان کا مطالبہ تھا کہ سینماؤں پر سے پابندی فوراً اٹھالی جائے۔اس دوران پشاور میں ہمارے ایک اخبار نویس دولت کو دعوت ولیمہ میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے سرحد کے سابق وزیر اعلیٰ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے ایک سوال کے جواب میں مسکراتے ہوئے سینماؤں کو بندش کے حکم کو سیاسی سٹنٹ قرار دیا تھا انہوں نے بڑے اعتماد سے اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ چند روز میں سردار مہتاب عباسی اپنا فیصلہ واپس لے لیں گے اور واقعی ایسا ہی ہوا چندروز حکومت سرحد نے سینماؤں پر عائد پابندی اٹھالی تھی۔یہ تصدیق شدہ امر ہے کہ فی الوقت ملک میں جتنے بھی سینما نیلی فلموں کے ذریعہ عریانی، فحاشی اور جنسی بے