کافر کون؟ — Page 428
428 کی اجازت دیدی رکنی میں ہم ، زمان نامی ایک شخص سے ملے جو ہمیں اپنے وسیع و عریض ڈیرے پر لے گیا وہاں اور بھی عورتیں موجود تھیں۔واپسی پر پولیس نے مجھے اکیلا پا کر پوچھ کچھ کی اور حراست میں لے لیا بعدا زاں میرے بیان پر اعلیٰ حکام کی نگرانی میں چھاپہ ماراٹیم نے تینوں لڑکیوں اور اسمگلروں کو گرفتار کر لیا اور ان کی نشاندہی پر درجنوں مقامات پر چھاپے مارے گئے اس دوران متعدد ایسی عورتیں برآمد ہوئیں جو برسوں پہلے یہاں لائی گئی تھیں اور اب بوڑھی ہو چکی ہیں ان عمر رسیدہ عورتوں نے بتایا کہ ایک عرصہ قبل ہمیں خریدا گیا اور ہر آنے جانے والے نے ہم سے زیادتی کی جب ہم اس قابل نہ رہیں تو ان جرائم پیشہ افراد نے ہم سے بیگار لینا شروع کر دی۔انہوں نے بتایا کہ ان حویلی نما گھروں سے ہمارے باہر نکلنے پر پابندی تھی مگر اب جب ہم آزاد ہو گئے ہیں تو ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جائیں تو کہاں جائیں؟ مذکورہ بالا واقعہ کے دوسرے روز بردہ فروشوں کے ایک گروہ کا سرغنہ بالا میں پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر کو معلوم ہوا کہ دو ایسی لڑکیاں گذشتہ روز جاں بحق ہوگئی ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کون تھیں ظالمون نے ان لڑکیوں کی کوچیں کاٹی ہوئی تھیں تا کہ وہ فرار نہ ہو سکیں۔عورتوں کی خرید فروخت میں ملوث ایک شخص حاجی بشیر احمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک بدنام اسمگلر ہے وہ کہاں کا رہنے والا ہے یہ کوئی نہیں جانتا تاہم اس نے چند برس پہلے ماڈل ٹاؤن ڈیرہ غازی خان میں ایک کوٹھی کرائے پر حاصل کی تھی ایک شخص فیاض احمد نے بتایا کہ حاجی بشیر احمد عورتوں کی اسمگلنگ کے علاوہ اسپئیر پارٹس اور الیکڑونکس اشیاء کی اسمگلنگ بھی کرتا ہے لیکن پولیس نے ابھی تک اس کے خلاف کارروائی نہیں کی۔حال ہی میں ڈیرہ غازی خان کی 17 سالہ شازیہ کو اغواء کر کے تہران کے راستے دوبئی لے جانے کی ناکام کوشش کی گئی۔شازیہ کی والدہ پچاس سالہ محنت کش مسماۃ عائشہ پولیس کو رپورٹ کرنے گئی تو پولیس اہلکاروں نے اس کی درخواست پھاڑ دی وہ روتی پیٹتی پریس کلب پہنچی تو صحافیوں کے دباؤں پر پولیس نے شازیہ کو بازیاب کرا کر اس کے والدین کے حوالے کیا۔شازیہ نے بتایا کہ اسے جعلی پاسپورٹ کے ذریعے تہران بھجوانے کا پروگرام تھا مزید معلوم ہوا ہے کہ صدر مملکت فاروق احمد خان لغاری کے آبائی گاؤں موضعات درخواست جمال خان شمالی جنوبی وسطی میں بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی عورتیں ایک عرصہ سے موجود ہیں ان عورتوں کو مقامی زمینداروں نے کراچی سے خریدا اور بعد ازاں جبراًان سے شادی رچالی۔دن بھر ان سے کھیتوں میں مشقت لی جاتی ہے۔جن افراد کے گھروں میں یہ عورتیں موجود ہیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں تاہم اگر سرکاری سطح پر خفیہ اداروں سے تحقیقات کرائی جائے تو سینکڑوں عورتوں کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔( تکبیر 19 اگست 97 ء )