کافر کون؟

by Other Authors

Page 411 of 524

کافر کون؟ — Page 411

411 لاہور پر بڑا بھاری گزرا۔امراء کی چھتوں پر جوانیاں ناچتی رہیں۔فلمی اداکار اور سیاستدان مل کر بھنگڑے ڈالتے رہے۔گورنر پنجاب اور چیئر مین سینٹ نے بھی بستیوں کے ساتھ ملکر تصویر میں اتروا ئیں۔بھارت سے سکھوں سمیت بہت سے مہمان آئے ہوئے تھے۔انہوں نے جی بھر کر بھنگڑا ڈالا۔ان کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی بہت سے لوگ بسنت منانے کے لیے لاہور کے ہوٹلوں میں مقیم تھے۔شہر میں پانی نایاب لیکن شراب کھلے عام دستیاب تھی۔ہمارے ٹی وی نے قومی تہوار قرار دیکر بسنت کو عید سے زیادہ اہمیت دیدی۔سارا دن ترنر گولیاں چلتی رہیں۔لیکن شام کے وقت تو وہ گولی چلی کہ الامان۔یہ بسنت کو الودع کرنے کا وقت تھا۔یہ اس قوم کا حال ہے کہ جس کا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔اگر حساب لگایا جائے تو اربوں روپے شراب اور ڈور پر خرچ ہو گئے ہوں گے۔بسنت اگر ہندو تہوار ہے تو کیا ہوا مزہ تو ہے ناں۔(نوائے وقت 24 فروری 1998 سر را ہے اربوں کی شراب پی تو اپنی جیب سے پی کسی کو حسد کرنے کی ضرورت نہیں۔اربوں کی شراب جوانیوں کے کھلے ناچ بھنگڑے۔بسنتی کپڑے۔پتنگ ڈور میں ان سے کسی کے جذبات مجروح نہیں ہوئے کہ مقدمہ درج کروانے کی نوبت آتی کیوں؟ کیا یہ سب حرکات عین اسلامی ہیں۔اور حرکتیں کرنے والے عین مسلم۔جس تنظیم کے مندرجہ بالا علماء کے قادیانی کی اذان پر جذبات مجروح ہو گئے تھے وہ تنظیم اس بسنت میں کہاں ہے۔ہم پہ تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے 3۔اُدھر قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کرنے کی جسارت قادیانیوں کے اس جرم پر 295، 2958 اور 295 کا اطلاق اور اس مذموم فعل پر سزائے موت بھی متوقع ہے۔مورخہ 5 دسمبر 1991ء کو مکرم خان محمد صاحب امیر جماعت احمدیہ ڈیرہ غازی خاں اور مکرم رفیق احمد صاحب نعیم کے خلاف قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے زیر دفعہ 2954 تعزیرات پاکستان تھانہ ڈیرہ غازی خان میں ایک مقدمہ درج کیا گیا۔روزنامہ ڈان پاکستان کی 26 اپریل 1992 ء کی اشاعت کے