کافر کون؟

by Other Authors

Page 394 of 524

کافر کون؟ — Page 394

394 ترجمہ: ”اے خدا اس کے پیٹ میں آگ بھر دے اور اس کی قبر میں آگ بھر دے اور اس پر عذاب کے سانپ اور بچھو مسلط فرما “ فروع الکافی کتاب الجنائز جلد اول ص (100 18۔شیعہ سے نکاح زنا اور فواحش ہے میل جول بند کرو۔۔۔دیوبندی فتویٰ ناظم شعبہ تعلیمات دارالعلوم دیو بند محمد مرتضی حسن کے نزدیک شیعوں سے جمیع مراسم اسلامیہ ترک کرنا چاہیے بالخصوص مناکحت کیونکہ اس میں خود یا دوسروں کو نا اور فواحش میں مبتلا کرنا ہے۔علمائے کرام کا متفقہ فتوی در باب ارتداد شیعہ اثنا عشریہ نا شرمولوی محمدعبدالشکور مدیر انجم لکھنو 1929 ء ) 19۔دیوبندی کا فر، مرتد، بدعتی بد مذہب، ان سے دور بھا گو، ان کو گالیاں دو اور ان سے بغض عین قرآن کے مطابق فرض، شادی ان سے زنا، جنازہ پڑھنا حرام مسلمانوں کے قبرستانون میں دفن کرنا حرام۔۔۔بریلوی فتویٰ جب علمائے حرمین طیبین زادهما الله شرفا وتکریما نانوتوی و گنگوہی، تھانوی کی نسبت نام بنام کفر کی تصریح فرما چکے ہیں کہ یہ کفار مرتدین ہیں اور یہ کہ من شک فی کفره و عذابه فقد کفر نہ کہ اس کو پیشوا و سرتاج اہل سنت جاننا بلاشبہ جو ایسا جانے ہرگز ہرگز صرف بدعتی و بد مذہب نہیں قطعاً کافر و مرتد ہے اور اس سے دور بھاگنا اور اسے اپنے سے دور رکھنا۔اس سے بغض اس کی اہانت اس کا رد فرض ہے اور تو قیر حرام اور ہدم اسلام اسے سلام کرنا حرام۔اس کے پاس بیٹھنا حرام اس کے ساتھ کھانا پینا حرام۔اس کے ساتھ شادی بیاہت حرام اور قربت زنائے خالص اور بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام۔مرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت اسے مسلمان کا ساغسل و کفن دینا حرام۔اس پر نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ کفر۔اس کا جنازہ کندھوں پر اٹھانا حرام۔اس کے جنازہ کی مشایعت حرام۔اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرانا حرام اس قبر پر کھڑا ہونا حرام اس کے لیے دعائے مغفرت یا ایصال ثواب حرام بلکہ کفر۔فقیر احمد رضا قادری عفی اللہ عنہ۔مہر عبدالمصطفی احمد رضا خان محمدی سنی حنفی قادری عرفان شریعت حصہ دوم صفحه 39-39 نوری کتب خانه بازار داتا صاحب لاہور گلزار عالم پریس لاہور ) 20۔غیر مقلد کافر مرتد قتل کر دو۔توبہ کر لے تب بھی قتل کر دو۔علماء ان کے قتل کے جلدی فتویٰ دیں۔لیٹ ہونے پر وہ بھی مرتد ہو جائیں گے۔۔۔۔مقلدین کا فتویٰ تقلید کو حرام اور مقلدین کو مشرک کہنے والا شرعاً کافر بلکہ مرتد ہوا اور احکام اہل اسلام کو لازم ہے کہ اُسے قتل کریں اور عذرداری اس کی بائیں وجہ کو مجھ کو اس کا علم نہیں تھا شرعاً قابل پذیرائی نہیں۔بلکہ بعد تو بہ کے بھی اس کو مارنا