کافر کون؟ — Page 366
366 آنحضور صلی ستم کے بارے میں نظریات آپ پر عتاب باری تعالی ہوا۔نعوذ بالله من ذلك سورہ احزاب آیت نمبر 38 و تخفى في نفسك ما الله مبدیہ مودودی صاحب فرماتے ہیں: علامہ آلوسی نے بھی تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ یہ عتاب ہے ترک اولی پر۔اس حالت میں اولی یہ تھا کہ نبی کریم خاموش رہتے یا زید سے فرما دیتے کہ جو کچھ تم کرنا چاہتے ہو کر سکتے ہو۔عتاب کا ماحصل یہ ہے کہ تم نے زید سے کیوں کہا کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑ و حالانکہ میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں کہ زنیب تمہاری بیویوں میں شامل ہوگی۔تفہیم القرآن زیر آیت نمبر 38 سورہ احزاب ) آپ حضرت زید کی بیوی پر عاشق ہو گئے تھے اور دعائیں کرتے تھے کہ دل پھر جائے۔نعوذ باللہ آمسد عليك زوجك واتق الله احزاب 38 کی تفسیر میں جلالین صفحہ 353 میں لکھا ہے کہ حضرت محمد ملی یا پیام حضرت زنیب پر عاشق ہو گئے تھے اور زنیب کی خوبصورتی دیکھ کر کہا یا مقلب القلوب کہ اے دلوں کو پھیرنے والے زنیب کے دل کو میری طرف پھیر دے“۔تفسیر جامع البیان میں لکھا ہے کہ فوقع فی نفسہ حُبھا یعنی آنحضرت سلایا ہم اپنی پھوپھی زاد بہن زینب پر عاشق ہو گئے۔العیاذ باللہ انہی حوالہ جات کی بناء پر ایک نومسلم انگریز مستشرق الحاج ابوبکر سراج الدین (MARTIN LINGS) نے اپنی کتاب’MUHAMMAD‘ صفحہ 212-213 پہلا ایڈیشن مطبوعہ 1983ء میں انتہائی توہین آمیز با تیں آپ کی طرف منسوب کی ہیں جن کو درج کرنا استطاعت قلم سے باہر ہے۔مگر ظلم تو یہ ہے کہ ایسی دل آزار کتاب کے مصنف کو سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے بین الاقوامی سیرت کانفرنس 1983ء کے موقعہ پر 5 ہزار امریکن ڈالر کا انعام بھی دیا ہے۔آپ سے ایسا فعل صادر ہوا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا یعنی ایک غریب سے ترش روئی۔۔۔نعوذ بالله من ذلك عبس وتولى أن جاء الا غمی 0 سورہ میں آیت 2 کی تفسیر کرتے ہوئے مودودی صاحب ارشاد فرماتے ہیں: ترش روئی اور بے رخی برتنے کا یہ فعل حضور سے ہی صادر ہوا۔یہ ایسا کام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔آپ کے اخلاق عالیہ کو جانے والا اسے یہ دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویے کا مرتکب ہو رہا ہے۔جس نابینا کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔اس سے مراد مشہور صحابی حضرت ابن ام مکتوم ہیں۔آپ نے ان کو غریب یا کم حیثیت آدمی سمجھ کر اُن سے بے رخی برتی اور بڑے آدمیوں کی طرف توجہ دی“۔