کافر کون؟ — Page 361
پر چانچ ہوئی۔361 ( به حاشیہ پارہ نمبر 23 سوره ص ) اے نبی اللہ خواہش نفس کے تحت ہونے والا قصور تمہیں زیب نہیں دیتا مودودی صاحب اگلی آیت 27 کی تفسیر میں اور ہی انکشافات فرماتے ہیں یاداودانا جعلنالخليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى“ ( سورہ ص آیت 27 اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت داود سے قصور تو ضرور ہوا تھا اور وہ کوئی ایسا قصور تھا جو نبیوں والے مقدمہ سے کسی طرح مماثلت رکھتا تھا“۔اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے کہ جو عل ان سے صادر ہوا تھا اس کے اندر خواہش نفس کا کچھ دخل نہ تھا۔اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی کوئی تعلق تھا اور وہ کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرماں روا کو زیب نہ دیتا تھا“۔تفہیم القرآن زیر آیت 27 ص نوٹ نمبر 27-28 حضرت ایوب نے بے قصور بی بی کو 100 لکڑیاں مارنے کی قسم کھائی حضرت ایوب جیسے عظیم نبی کے بارے میں درج ہے کہ آپ ایک بے قصور عورت پر اتنا خفا ہو گئے کہ مارنے کی ٹھان لی۔ص آیت 45 و خذ بيد لضعنا فاضرب به ولا تحنث علامہ محمود الحسن و علامہ شبیر احمد عثمانی اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت ایوب نے حالت مرض میں کسی بات پر خفا ہو کر قسم کھائی کہ تندرست ہو گئے تو بی بی کوسولکڑیاں ماریں گے وہ بی بی اس حالت کی رفیق تھی اور چنداں قصور وار نہ تھی اللہ نے مہربانی فرما کر قسم سچا کرنے کے لیے ایک حیلہ ان کو بتلا دیا جو انہی کے لیے مخصوص تھا۔حضرت ابراھیم نے تین جھوٹ بولے ( قرآن مجید مترجم ناشر ملک سراج الدین اینڈ سنز پبلشرز لا ہور ) تفاسیر کے اندر یہاں تک موجود ہے کہ حضرت ابراھیم نے تین جھوٹ بولے اور ان جھوٹوں کی تفاصیل درج کی گئیں ہیں۔( تفسیر کمالین/ حاشیه جلالین صفحه 374 / ترمذی جلد 2 مطبع مجتبائی صفحہ 146