کافر کون؟ — Page 357
357 ( علوم القرآن اردو صفحہ 381 ناشر ملک برادز کارخانه بازار فیصل آباد 1966ء) دوستو میں حیران رہ گیا کہ جب میرے علم میں یہ بات آئی کہ ڈاکٹر صبحی جنہوں نے اس عقیدہ پر زبردست تنقید کی ہے نہ صرف خود بھی ناسخ و منسوخ کے پر جوش مبلغ ہیں بلکہ اس کتاب میں انہوں نے شکوہ کیا ہے کہ اگر چہ مفسرین نے بہت سی آیات بلا دلیل منسوخ قرار دی ہیں مگر بعض اہل اسلام محققین نے جلد بازی سے کام لیکر نسخ کا بالکل ہی انکار کیوں کر دیا ہے؟ بلکہ آپ نے ہمت کر کے نسخ قرآن کے منکرین کو مثل یہود ارشاد فرمایا ہے۔قرآن مجید کی آیات بے جوڑ ہیں اور کوئی ترتیب نہیں ( علوم القرآن اردو صفحہ (381) قرآن مجید کی نظم کو خود خدا نے مثال کے طور پر پیش کیا ہے مگر میری بستی کے علماء دین جو قرآن مجید کے دیگر تراجم پر پابندیاں لگوانے میں Masters ہیں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔مولانا مودودی صاحب جن کو آپ کے مریدین نبض شناس رسول“ قرار دیتے ہیں فرماتے ہیں: و شخص جو قرآن میں تصنیفی ترتیب تلاش کرتا ہے اور وہاں اسے نہ پاکر کتاب کے صفحات میں بھنکنے لگتا ہے اس کی پریشانی کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ مطالعہ قرآن کے ان مبادی سے ناواقف ہوتا ہے وہ اس گمان کے ساتھ مطالعہ شروع کرتا ہے کہ وہ مذہب کے موضوع پر ایک کتاب پڑھنے چلا ہے۔مذہب کا موضوع اور کتاب ان دونوں کا تصور اس کے ذہن میں وہی ہوتا ہے جو بالعموم مذہب اور کتاب کے متعلق ذہنوں میں پایا جاتا ہے مگر جب وہاں اسے اپنے ذہنی تصور سے بالکل ہی مختلف ایک چیز سے سابقہ پیش آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے مانوس نہیں کر سکتا اور سر رشتہ مضمون ہاتھ نہ آنے کے باعث بین السطور یوں بھٹکنا شروع کر دیتا ہے جیسے وہ ایک اجنبی مسافر ہے جو کسی نئے شہر کی گلیوں میں کھو گیا ہے“۔تفہیم القرآن بحوالہ الوہابیت صفحہ 140 - 141 ) قرآن کے تو بعض حصے چھپنے سے ہی رہ گئے ہیں قرآن مجید جس کی حفاظت کے لیے ہم اپنے تن دھن کو قربان کرنا جز والایمان سمجھتے ہیں میرے علماء کے نزدیک ابھی نامکمل ہے اور بہت سی آیات چھپنے سے ہی رہ گئی میں مگر حقیقت میں قرآن کا حصہ ہیں اور ان پر عمل کیا جائے گا جیسے آیت رجم اور شیعوں کے نزدیک ”سورہ علی شیعوں کے نزدیک اصل قرآن تو حضرت علی کے پاس تھا جو 40 پاروں کا تھا جو ان کی نسل میں بارھویں امام تک موجود رہا۔اور بارھویں امام اس کو لیکر دنیا سے روپوش ہو گئے۔۔۔اور اس موجودہ قرآن نہ صرف 10 پارے کم ہیں بلکہ بعض سورتوں کی آیات بھی کم ہیں اور بعض آیات