کافر کون؟

by Other Authors

Page 339 of 524

کافر کون؟ — Page 339

339 مسجد چینیا نوالی اور احسان الہی ظہیر کے سابق اہل محلہ، ان دنوں کو نہیں بھولے جب یہ شخص چھوٹے بچوں کو چند سکے بلکہ بسا اوقات روپے دے کر یہ سکھلایا کرتا تھا مجھے علامہ کہا کرو۔اور اب بھی اس شخص نے اپنی ذات سے دوستی یا دشمنی کا یہی معیار مقرر کر رکھا ہے کہ کون ان کے نام سے پہلے علامہ لگاتا ہے اور کون نہیں۔ان خود ساختہ علامہ صاحب کے کویتی سر پرستوں کو تو ہم نے مباہلہ کا چینج پہلے سے دے رکھا ہے اب ہم۔۔۔۔۔ان حضرات کے بدنام زمانہ کردار کا اضافہ کر کے اس کو بھی شامل مباہلہ کرتے ہیں۔1۔کیا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک میں اس شخص نے قومی اتحاد کی جاسوسی کے عوض بھٹو حکومت سے لاکھوں روپے رشوت یا برائے نام قیمت پر پلاٹ اور کاروں کے پرمٹ حاصل نہ کئے تھے؟ 2۔یورپ کے نائٹ کلبوں میں پاکستان کے یہ علامہ صاحب "رئیس التحریر مجلہ ترجمان الحدیث کیا گل کھلاتے رہے؟ 3۔اس شخص کے وہ راز ہائے دروں“ جو اس کی جلوتوں اور خلوتوں کے امین ساتھیوں کی شہادت سے منظر عام پر آنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں کیا یہ ان کی صداقت کے خلاف مباہلہ کر سکتا ہے۔4۔اپنے گھر میں جو ان نوکرانیوں کے قصوں کے بارے میں مباہلہ کی جرات پاتا ہے؟ 5۔حکومت عراق سے لاکھوں روپے آپ نے کس کار خیر کے سلسلہ میں وصول فرمائے تھے؟ 6۔حکومت سعودیہ کو ورغلانے کے لیے موجودہ حکومت پاکستان کی شیعہ حمایت کے بے بنیاد قصوں کے محاسبہ اور دونوں حکومتوں کے درمیان جاسوسی کے متضاد کردار کو بھی شامل مباہلہ فرما لیجیے۔7 کویتی وفد کی اعلیٰ حیثیت اور ان کی طرف سے کروڑوں روپے کے تعاون کے اعلانات کے پس پردہ حالیہ حکومت پاکستان کے خلاف اسلام دشمن سیاسی تنظیموں کی سر پرستی اور ایم۔آر۔ڈی کو تقویت بھی مباہلہ میں شرکت کی اجازت چاہتی ہے۔حافظ صاحب کے الزامات سچے ہیں یا غلط اللہ بہتر جانتا ہے۔ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ دواہل حدیث کے ممتاز علماء دین جو دونوں مدینہ یورسٹی سعودی عرب کے فاضل ہیں کا ایک دوسرے کے بارے میں نظریہ ہے۔شیرٹن ہوٹل اور راشی مولوی عظیم درسگاہ دیوبند کی پاکستان میں نمائندگی کرنے والے احباب مولا نا فضل الرحمن صاحب کا تذکرہ آج کل زبان زد عام ہے۔شیرٹن ہوٹل میں ان کا 8لاکھ والا بل دشمن کی افواہ مان لیں۔نصیر اللہ بابر صاحب وزیر داخلہ پاکستان کا فرمان کہ مولانا کی ناجائز مراعات کی طلب انتہاء سے بڑھنے پر بینظیر صاحبہ نے گلہ کیا تو میں نے کہا کہ