کافر کون؟ — Page 338
338 مولانا غلام علی اوکاڑوی مفتی عبدالقیوم ہزاروی، مفتی محمد شریف رضوی جیسے عظیم علماء دین کا ساتھ نصیب ہے۔ان تمام موخر الذکر علماء دین کا ذاتی کردار نیازی صاحب کی نظر میں کیا ہے وہ یقینا محل نظر بھی ہے اور قابل فکر بھی ہے۔آپ کے افکار پر مبنی پر یس کا نفرنس 27 جون 97ء کی اخبار ”صحافت میں یوں موجود ہے: زکوۃ خور ملاوں سے اتحاد ممکن نہیں۔یہ چند لونڈے زکوۃ خور ملاوں کو ساتھ ملا کر ہمارا کیا بگاڑ لیں گئے ملاں کون ہے زکوۃ خور کون ہے اور اصلی لونڈہ کون ہے ان پہاڑوں جیسی مشہور شخصیات میں میرے لیے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ دونوں ہی نظام مصطفیٰ کی بات کرنے والے ہیں۔انٹر نیشنل بلیک میلر مولوی چند برس پیچھے جھانکتا ہوں تو علامہ احسان الہی ظہیر صاحب کا چہرہ نظر آتا ہے آپ اہل حدیث کے ممتاز عالم دین تھے۔مدینہ یونیورسٹی کے فاضل تھے اور عربوں کو عربی پڑھاتے رہے۔بیک وقت اردو اور عربی میں تحریری و تقریر کا ملکہ ہونے کی وجہ سے اہل حدیث علماء دین میں آپ کا مقام منفرد حیثیت کا حامل تھا۔آپ ایک بم دھما کے میں فوت ہو گئے۔سعودی حکومت نے خاص انٹرسٹ لیکر آپ کا علاج جدہ میں کروایا لیکن جانبر نہ ہو سکے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔جبکہ دوسری طرف میاں فضل حق صاحب اہل حدیث پاکستان کے ممتاز راہنما اور سنجیدہ شخصیت کے حامل علمی شخصیت کے مالک ہیں۔ہفت روزہ اہل حدیث ان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے اس پرچے کے شمارہ 3 اگست 1984 میں صفحہ 5 سے 7 تک ایک حافظ عبدالرحمن صاحب مدنی فاضل مدینہ یونیورسٹی جیسے عالم متبحر اہل حدیث کا ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: احسان الہی ظہیر کے لیے چیلنج مباہلہ“ مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے مولانا احسان الہی ظہیر صاحب پر خوفناک مالی کرپشن اور اخلاقی گراوٹ کے الزام لگائے ہیں اور اپنے الزاموں میں اتنے ثقہ ہیں کہ انہوں نے ان بیانات کے جھوٹے ہونے پر مولانا احسان الہی ظہیر صاحب کو دعوت مباہلہ کا چیلنج تک دیا ہے جیسے قبول نہیں کیا گیا۔ذیل میں مضمون کے چند اقتباس پیش ہیں تا کہ آپ بھی اندازہ لگالیں کہ ایک عالم دین جب دوسرے عالم دین کی شان بیان کرتا ہے تو قلم کی نوک پر کیا کچھ آتا ہے۔ہی حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس شخص کی محبت میں نہیں، بلکہ اس کے شر سے بچنے کے لیے اسلام کی روادار ہے چنانچہ اس کے چھچھورے پن کا یہ عالم ہے کہ بات بات پر لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔