کافر کون؟ — Page 328
328 ہیرا منڈی لاہور میں براجمان ایک مشہور پیر صاحب جو روزنامہ خبریں میں مذہبی کالم لکھتے ہیں اپنے آپ کو ملاتی صوفی کہتے ہیں۔انہوں نے لاہور کے ایک ہوٹل میں مجرے کے دوران پر یس کا نفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم معاشرے کی یہ تصویر کشی فرمائی: کا کیاں تاڑ نا میرا مذہب ہے۔نواز شریف، شہباز شریف بھی کا کیاں تاڑتے ہیں اور اس کو ثقافت کا نام دیتے ہیں۔میں پیر آف کنجر شریف ہوں پیر آف کا کی تاڑ نے کہا کہ یہ پیر کا کی تاڑ کی محفل ہے سب نا چوتا کہ لوگ ملامت کریں۔اسلامی مذہب میں تضاد آ گیا ہے بڑے ہوٹلوں میں کا کیاں ڈانس کریں تو ثقافت کہلاتی ہے ہیرا منڈی میں ناچے تو کا کی کنجری کہلاتی ہے سوہنا کا کا نواز شریف کا کیوں کے مجرے بند نہیں کروا سکتا۔(روزنامہ خبریں 5 مئی 1997 ء ) 3 مارچ 1998ء زنا، شراب، رقص وسرور، بے پردگی، عریانی، فحاشی سینما سود قمار بازی ہم نے اپنالی ہے اور مسجدوں میں خاک اڑ رہی ہے۔۔۔امین احسن اصلاحی ممتاز عالم دین جناب امین احسن اصلاحی صاحب کی آخری منظر کشی جوان کی بند ہوتی ہوئی آنکھوں اور ٹوٹتی سانسوں کے درمیان انہوں نے محفوظ کی اور آپ کی وفات کے بعد منظر عام پر آئی یوں تھی: جو چیزیں عیب خیال کی جاتی تھیں وہ اب ہنر سمجھیں جانے لگی ہیں جو باتیں خال خال افراد اختیار کرتے تھے اور وہ بھی ڈرتے ڈرتے اور شرماتے شرماتے۔اب ہمارے تہذیبی اداروں اور ہماری کلچرل سوسائیٹیوں اور ہماری تعلیمی مرکزوں میں اب ان کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔زنا۔شراب۔رقص و سرود بے پردگی۔عریانی فحاشی سینما۔سود۔رشوت - قمار بازی۔یہی ازم اور اس قبیل کی تمام برائیاں اپنے تمام نتائج ولوازم کے ساتھ روز بروز ترقی پذیر ہیں اور ان میں سے ہر چیز وقت کا فیشن بنتی جارہی ہے۔اس کے مقابل مسجدمیں ویران ہوتی جارہی ہیں۔دینی مدرسوں میں خاک اڑ رہی ہے۔دین کے جاننے والے اٹھتے چلے جارہے ہیں اور جو جگہیں خالی ہو رہی ہیں ان کے بھرنے والے نہیں پیدا ہوتے۔اسلامی رسائل و اخبارات آہستہ آہستہ دم تو ڑ رہے ہیں۔مذہبی طبقہ کی کسمپرسی جو پہلے بھی کچھ کم ن تھی اب اپنی آخری حد کو پہنچ رہی ہے“۔(ماہنامہ اشراق 3 مارچ 1998 ء ) |