کافر کون؟ — Page 315
315 کرنے کا صبر بھی ختم ہو گیا اور یوں اس کا جنازہ باہر والوں کے لیے عبرت بنا۔(صفحہ 37) عبرت نمبر 3 کے تحت لکھا ہے : سورۃ نون والقلم میں گستاخ رسول کی دس خبیث خصلتوں سے آخری علامت ذلک زنیم کہ وہ زنا سے پیدا ہوا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی اور آگے سزا ارشاد فرمائی کہ سنسمه علی الخرطوم قریب ہے کہ ہم اس سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے۔چنانچہ اللہ نے دینی سے اہلسنت کا بیج ہی ختم کرنے کے چیلنج کرنے والے گستاخ رسول غلام اللہ خاں کی صورت کو اس طرح داغا کہ رب العزت کے ارشاد کے مطابق اس کی شکل سؤر کی کالی تھوتھنی کی طرح ہو گئی۔زبان پیشانی کو لگ گئی۔دبئی کی دیوبندی عوام شکل دیکھنے سے بے ہوش ہو گئی۔غلاظت کی طرح کینہ بھرا تھا اُس کے سینے میں۔ڈاکٹروں کو میت کے صندوق پر بھی یہ لکھنا پڑا کہ کوئی صاحب اس کی شکل دیکھنے کی کوشش نہ کرے۔احتشام الحق تھانوی باتھ روم میں فوت ہوا۔وغیرہ وغیرہ (صفحه 37-38 ) (صفحہ 38) نوٹ : قرآن شریف کی غلط ترجموں کی نشاندہی کا فرکو بھی کافر نہ کہنا چاہیے،عبرتناک موت، یہ تینوں کتابوں کے متعلقہ صفحات چھوٹے سے کتابچے کی شکل میں مکتبہ نوریہ رضویہ وکٹوریہ مارکیٹ سکھر نے الگ سے شائع کیا ہے مندرجہ بالا حوالہ جات میں نے اسی کتابچے سے لئے ہیں۔دیوبندیوں کی تصویر دیو بندیوں کی نظر میں مولوی اللہ یار خان بہت بڑے دیو بندی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔بیسیوں کتب کے مصنف اور قاضی اور مفتی اور شیخ الحدیث کے القابات سے مزین ہیں منارہ ضلع چکوال میں براجمان ہیں جبکہ دوسری طرف اکوڑہ خٹک کے مولاناسمیع الحق اور ان کا پورا مکتبہ فکر اور تیسری طرف بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء کرام۔مولوی اللہ یار خان ان مؤخر الذکر سارے ختم النبوۃ کے محافظین کے کردار اور ایمان وعقائد کو یوں دیکھتے ہیں عوام بھی بے چارے مجبور ہیں کچھ لوگ دنیاوی مفاد کی خاطر اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں مگر علمائے دیوبند کے اجماعی عقائد کے منکر ہیں۔صالحیہ، کرامیہ، اور خارجیوں کے عقائد جمع کر کے اس ملغوبے کا نام تو حید رکھ لیا ہے۔اور اس تعلیمی تو حید کے پر چار کے لئے دیوبندیت کا اسٹیج استعمال کیا۔سننے والے سمجھیں دیو بندیت یہی ہے۔انہیں کون بتائے کہ یہ بہروپئے تو حنفیت سے بھی کوئی واسطہ نہیں رکھتے بلکہ وہ تو اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت بھی ثابت نہیں کر سکتے“۔