کافر کون؟

by Other Authors

Page 290 of 524

کافر کون؟ — Page 290

290 کے مقدس نام کی تحقیر کر رہے ہوتے ہیں۔تبصرہ (صفحه 26) سنا تھا کہ قانون اندھا ہوتا ہے۔آج جسٹس صاحب کی تحقیق پڑھ کر ثابت ہو گیا کہ کم از کم پاکستان میں قانون واقعۂ اندھا ہے۔ایک معاشرہ زندہ لوگوں کی بستی میں سو سوا سو سال گزار چکا ہے۔مگر دل میں کیا ہوتا ہے اس کا عملی اظہار کہیں نہیں ہوا۔یہ خبر تو آئی کہ قادیانی کلمہ پڑھنے کے جرم میں گرفتار ہو گیا مگر اس خبر کو کان ترستے ہی ہیں کہ کلمہ مٹانے کے جرم میں گرفتار ہوا ہے۔مشہور برطانوی مفکر پوپ الیگزنڈر کا یہ قول کتنا سچا ہے: ایسے لوگ جو اعلیٰ قابلیت رکھتے ہوئے بد اطوار و پست کردار ہوتے ہیں ان کی مثال ان سڑی گلی ہڈیوں کی ہے جو چاند کی روشنی میں چمک دمک کے ساتھ بد بو اور تعفن پھیلاتی ہیں۔مصنف’مذہب کا سرطان علماء دین کی ایسی ہی خدمات پر افسوس کرتے ہوئے لکھتا ہے علماء کی یہ کافر گری مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف علماء کی طرف سے بلکہ خود اس مذہب کی طرف سے بھی بدگمانیاں پیدا کر رہی ہے جس کی نمائندگی یہ علماء کر رہے ہیں روز بروز مسلمانوں کا اعتبار علماء پر سے اٹھتا جارہا ہے۔ان کی باتیں سن کر دل مذہب کی طرف راغب ہونے کی بجائے اس سے دور بھاگنے لگے ہیں۔مذہبی مجلسوں اور مذہبی تقریبوں کے متعلق یہ عام خیال پیدا ہو گیا ہے کہ ان میں فضول جھگڑوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔اس غلبہ کفر فسق کے زمانے میں عام مسلمانوں کو مذہبی علوم کی واقفیت بہم پہنچانے کا اگر کوئی ذریعہ ہوسکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ علماء دین پر لوگوں کا اعتماد ہوتا۔اور وہ ان کی تحریروں اور تقریروں سے فائدہ اٹھاتے مگر افسوس کہ ان کے مشغلوں سے یہ ایک ذریعہ بھی ختم ہوا جا رہا ہے اور یہ مسلمانوں پر نہیں تو خود اپنے اوپر ہی رحم کر کے اس روش سے باز آجائیں جس نے ان کو اپنی قوم میں اسقدر رسوا کر دیا ہے درآنحالیکہ یہی وہ قو میں تھیں جو بھی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی۔مذہب کا سرطان صفحه 95-96 مصنفہ کوثر جمال )