کافر کون؟

by Other Authors

Page 276 of 524

کافر کون؟ — Page 276

276 معلوم کرے۔اور آئندہ کے لیے مسلمان کو رام کرنے کے لیے تجاویز مرتب کرے۔اس کمیشن نے ایک سال ہندوستان میں رہ کر مسلمانوں کے حالات معلوم کئے 1870 ء میں وائٹ ہاؤس لندن میں کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں کمیشن مذکور کے نمائندگان کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشن کے پادری بھی دعوت خاص پر شریک ہوئے جس میں دونوں نے علیحدہ علیحدہ رپورٹ پیش کی جو کہ دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا کے نام سے شائع کی گئی جس کا مندرجہ ذیل اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔رپورٹ سربراہ کمیشن سرولیم ہنٹر مسلمان کا مذہبا عقیدہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے اور ان کے لیے غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کرناضروری ہے۔رپورٹ پادری صاحبان اگر ہم اس وقت کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعوی کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقہ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے۔تبصرہ 1۔لندن میں تو کوئی وائٹ ہاؤس نہیں وہ تو امریکہ میں ہے۔2 دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا نامی کتاب جس سے یہ واقعہ وصول کیا گیا دنیا میں بھی شائع ہی نہیں ہوئی۔3 سرولیم ہنٹر کی سربراہی میں برصغیر کی تاریخ میں کبھی کوئی کمیشن برصغیر آیا ہی نہیں۔-4- غدار اور ظلی نبی کے الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ یہ پادری کے نہیں احراری کے الفاظ ہیں۔بین الاقوامی جھوٹ کا مقابلہ مکمل تفصیل کے لیے دیکھیں مذہب کے نام پر فسانہ مصنفہ مولانا دوست محمد شاہد ) مشہور امریکی مفکر ایمرسن کا قول ہے کہ عقل کی حد ہو سکتی ہے لیکن بے عقلی کی کوئی حد نہیں“۔مندرجہ بالا جھوٹ کبھی برطانیہ کے وائٹ ہاؤس تک ہی محدود رہتا تب بھی اپنی بین الاقوامی حیثیت میں منفرد تھا۔مگر مزے کی بات ہے 67 ء کے بعد کے 30 سالوں میں بھی اس پر مزید رنگ وروغن کا سنہری کام جاری رہا۔30 سالوں پر پھیلے اس روغنی ہوم ورک کا مختصر حال درج ہے۔1۔سات سال تک احراری بھائی یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہے کہ وائٹ ہاؤس لندن میں ایک ظلی نے