کافر کون؟

by Other Authors

Page 270 of 524

کافر کون؟ — Page 270

270 جسے کتاب اللہ اور اقوال رسول اللہ خارج کریں اور ان فرقوں کو مسلمان سمجھو جن کو خدا اور رسول مسلمان قرار دیں ایک حرف کمی بیشی نہ کرو۔پھر دیکھو کہ اسلام میں کون داخل ہوتا ہے اور اس سے کون خارج ہوتا ہے۔“ سنو! سید سلیمان ندوی صاحب فرماتے کہ آپ کا اسوہ ہے کہ کوئی انگلی اٹھا کر بھی بتا دے کہ خدا کہاں ہے تو وہ مسلمان ہے۔آپ نے قرآن و حدیث پیش کرنے کے بعد سید سلیمان ندوی صاحب کا قول بھی درج فرمایا ہے اور لکھتے ہیں : اس موقعہ پر علامہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول بھی یادرکھنے کے قابل ہے۔آگے آپ نے ان کا رسالہ اہل سنت والجماعۃ سے حبشہ والا واقعہ درج فرمایا ہے جس کے بعد ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ ) '' آپ اسلام کے لیے آسمان کی طرف انگلی اٹھا دینا کافی سمجھتے تھے۔“ سنو! امام غزالی فرماتے ہیں کہ جو بھی کلمہ پڑھتا ہے اسے کا فرمت کہو مولا نا عبد الماجد در آیا بادی مزید آگے چلتے ہوئے حضرت امام غزالی کا قول التفرقة بين الاسلام والزندقة صفحہ 56 سے درج فرماتے ہیں جس میں حضرت امام صاحب نے فرمایا کہ جب تک کوئی شخص کلمہ کا قائل ہے اسے کافر مت کہہ آپ قرآن وحدیث کی بجائے من مانی تعریف بنانا چاہتے ہیں تا کہ آپ جس فرقے کو چاہیں کا فر بنا سکیں۔آپ نے مزید بحث کو سمیٹتے ہوئے پاکستانی مولویوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ سطور اہل پاکستان کے ان علماء کے لیے لکھی گئی ہیں جو حکومت سے لفظ مسلم کی تعریف کرانا چاہتے ہیں۔اگر چہ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ وہ تعریف سے پہلے ہی بعض فرقوں کو خارج از اسلام قرار دینے کے لیے بے چین ہیں اور تعریف بھی ایسی من مانی کرانا چاہتے ہیں کہ جن کو وہ مسلمان کہنا نہیں چاہتے وہ مسلمان ثابت نہ ہوں اس الجھن کو دور کرنے کے لیے یہ سطور لکھی جارہی ہیں۔“ ( صدق جدید لکھنو 6-20 سمبر 1957 ء مضمون کی شکل میں محمد احمد برانڈرتھ روڈ لاہور نے مکتبہ جدید پریس سے شائع کیا ) لیکن آج کے بعد میں نہیں مانتا آج سے مسلمان کی نئی تعریف یہ ہوگی جنرل ضیاء الحق صاحب سابق صدر پاکستان نے امتناع قادیانیت جیسا آرڈنینس پاس کرنے اور لاگو کرنے کے ساتھ ساتھ لفظ مسلم کی بھی نئی تعریف وضع فرمائی تا کہ قادیانیوں پہ کا ہاتھ ڈالا جا سکے۔جنرل صاحب نے آئین کے آرٹیکل نمبر 260 میں ترمیم کر کے مسلم اور غیر مسلم کی مندرجہ ذیل تعریف ایجاد فرمائی۔1۔مسلم