کافر کون؟

by Other Authors

Page 267 of 524

کافر کون؟ — Page 267

267 محمد رسول اللہ کے قائل رہیں اور اس کے خلاف نہ کریں اور خلاف یہ کہ حضور کو کسی عذر یا بغیر عذر کے کا ذب قرار دیں۔کیونکہ کسی کو کافر کہنے میں بڑے خطرات ہیں اور سکوت میں کوئی خطرہ نہیں۔“ (التفرقة بين الاسلام والزندقہ صفحہ 56 خدا کو ایک مان کر جو کلمہ پڑھ لیتا ہے وہ مسلمان ہے اسے کسی سے منظوری کی ضرورت نہیں۔شیخ الاسلام قسطنطنیہ 1888ء میں ایک یورپین مسٹر شومان نے حضرت شیخ الاسلام قسطنطنیہ کی خدمت میں لکھا کہ وہ اسلام اختیار کرنا چاہتا ہے اسے مسلمان ہونے کا طریق بتایا جائے۔شیخ الاسلام کا جواب مسٹر آرنلڈ کی کتاب دعوت اسلام بعنوان THE PREACHING OF ISLAM میں موجود ہے انہوں نے تحریر فرمایا: اسلام کی بنیاد یہ ہے کہ خدا کو ایک مانے اور محم صلی ا یتیم کی رسالت کا یقین کرے یعنی دل سے اس پر ایمان رکھے اور الفاظ میں اس کا اقرار کرے جیسے کہ کلمہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے الفاظ ہیں جو شخص اس کلمہ کا اقرار کرتا ہے وہ مسلمان ہو جاتا ہے بغیر اس کے کہ وہ کسی کی منظوری حاصل کرے۔“ ( دعوت اسلام صفحہ 350 ناشر نفیس اکیڈمی کراچی) جو شخص حالت نزع میں انگریزی ہی میں کلمہ کا مہفوم ادا کر دیتا ہے وہ بلاشبہ مسلمان ہے۔شیخ الکل مولانا نذیر حسین دہلوی جناب شیخ کا فتویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص حالت نزع میں کلمہ شہادت کا مضمون ہی انگریزی میں ادا کر دے پھر فوت ہو جائے تو وہ بلا شبہ مسلمان سمجھا جائے گا۔“ (فتاویٰ نذیر یہ جلد اول صفحہ 7 ناشر اہل حدیث اکاو می کشمیری بازار لاہور ) مسلمان ہونے کے لیے صرف آسمان کی طرف انگلی ہی اٹھا دینا کافی ہے یہی اسوہ رسول ہے۔۔۔مولانا سید سلیمان ندوی مولاناسید سلیمان ندوی رسالہ اہل سنت و الجماعت میں مسلمان ہونے کے لیے درج ذیل فارمولہ بتاتے تھے: بخاری میں ہے کہ ایک دفعہ ایک صاحب کو ایک مسلمان غلام آزاد کرنا تھا وہ احمق سی کوئی حبشیہ آنحضرت صلی یا یہ یمن کی خدمت میں لے آئے اور دریافت کیا کہ کیا یہ مسلمان ہے؟ آپ نے اس سے پوچھا کہ خدا کہاں ہے؟ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا دی آپ نے ان صاحب سے فرمایا لے جاؤ یہ مسلمان ہے اللہ اکبر اسلام کی حقیقت پر کتنے پردے پڑ گئے ہیں۔آپ اسلام کے لیے آسمان کی طرف انگلی اٹھا دینا کافی سمجھتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک آج کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ نسفی کے بندھے ہوئے عقائد پر حرفاً حرفاً منت نہ کہتا جائے۔“ (رسالہ اہل سنت والجماعت صفحہ 24