کافر کون؟

by Other Authors

Page 228 of 524

کافر کون؟ — Page 228

228 بریلوی کی خانہ تلاشی جیسی کتب کا مصنف تحریر کرے اور اپنے فرقے کا دفاع کرے تو گستاخ رسول، صیہونی طاقتوں کے ایجنٹ اور دائرہ اسلام سے خارج سے کم وزنی لفظوں کا انتخاب شاید ہی ممکن ہے مگر جب بات احمدی اور غیر احمدی دشمنی کی ہو تو اکٹھے حملہ کرنے کی خاطر درج ذیل سمجھوتے کے الفاظ نظر آتے ہیں: ختم نبوت ( کی پاکستانی تعریف۔ناقل ) امت مسلمہ کے لیے ایک بڑی رحمت ہے جس کی بدولت ہی اس امت کا ایک دائمی اور عالمگیر برادری بنا ممکن ہوا ہے اس چیز نے مسلمانوں (کے تمام فرقوں) کو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کر دیا ہے جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب بن سکتا ہے“۔کاجل کی کوٹھڑی میں داخل ہو کر دودھ کی طرح سفید بے داغ کپڑے لیکر باہر آنے کا چیلنج کرنے والے دوستوں سے صرف اتنا عرض کروں گا کہ اگر تنگی وقت کا آزار نہ ہو تو ایک لمحے کے لیے رک کر صرف اس فقرے کو غور سے دیکھ لیجئے بہت سے حقائق یکسر نقاب الٹ کر عین دو پہر کے اجالے میں آجائیں گے۔اور یہیں سے ضمیر اس خوفناک سمجھوتے سے بغاوت کرتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے؟ اور کیسے ممکن ہے کہ : 1۔تمام فرقے درست اور عین اسلامی بھی ہیں اور ان کی موجودگی میں اسلام ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ بھی ہے۔2۔ان تمام فرقوں کے تمام عقائد درست اور عین اسلام بھی۔3۔ان کے ایک دوسرے کے خلاف تمام فتاوی کفر بھی درست اور عین اسلام۔4۔ایک فرقے کے دوسرے کے خلاف گستاخ رسول اور صیہونی طاقتوں کے ایجنٹ ہونے کے اعلانات بھی درست اور عین اسلام۔5 سینکڑوں نہیں ہزاروں۔ایک دوسرے کے خلاف لکھی جانے والی کتب بھی درست اور عین اسلام۔6۔کافر مرتد قرار دے کر دوسرے فرقے کے لوگوں کو قتل کرانا بھی عین اسلام۔7 مقتول کا فر“ بھی جنتی اور عین مسلمان۔مگر اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور اس کا آئین ببانگ دہل اعلان کر رہا ہے کہ ہاں ایسا ممکن ہے اور نہ صرف ممکن ہے بلکہ یہی تو طرہ امتیاز ہے جو اسے تحفظ ختم نبوت اور آئین کی تیسری ترمیم کی برکت۔حاصل ہوا ہے۔کیا کہوں صرف فیض کی زبان میں ہی دلی کرب کا اظہار کر سکتا ہوں : جو تیری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیا نہ کسی عدد کی عداوتیں نہ کسی صنم کی مزوتیں یہی دلی کرب میری 35 ویں مشکل بن گیا ہے تفصیل یوں ہے یعنی آج سے اگر