کافر کون؟

by Other Authors

Page 220 of 524

کافر کون؟ — Page 220

220 ”ماں باپ کی اطاعت کو فرض سمجھنے والی اولا دساری عمر عقلی طور پر پانج رہ جاتی ہے“۔( قرآنی فیصلے صفحہ 129 بحوالہ فتنہ پرویزیت صفحه 49) سید محمد یوسف بنوری اور مفتی اعظم مولوی ولی حسن ٹونکی نے غلام احمد پرویز کے باطل عقائد کے نام سے انکی کتابوں سے ان کے عقائد کو جمع کر کے کتابی شکل میں علماء کے سامنے پیش کر کے ان سے فتاویٰ کفر لئے۔1۔قرآن میں جہاں اللہ اور رسول کا نام آیا ہے اس سے مراد مرکز ملت ہے۔2۔جہاں اللہ اور رسول کی اطاعت کا ذکر ہے۔مراد مرکزی حکومت کی اطاعت ہے۔3۔قرآن میں اولی الامر سے مراد افسران ماتحت ہیں۔4۔رسول کو قطعاً یہ حق نہیں کہ وہ کسی سے اپنی اطاعت کرائے۔5۔رسول کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ وہ اس قانون کو انسانوں تک پہنچانے والا ہے۔6۔رسول اللہ سال خالی ہیں جب موجود تھے تو بحیثیت مرکز ملک آپ کی اطاعت فرض تھی آپ کی وفات کے بعد آپ سی تی ایتم کی اطاعت کا حکم نہیں کیونکہ اطاعت کے معنی ہی کسی زندہ کے احکام کی تابعداری ہے۔7۔ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو اپنے معاملات کے فیصلے آپ کرنے ہوں گے۔8 - قرآن کریم کے احکام وراثت، قرضہ لین دین ،صدقہ خیرات زکوۃ وغیرہ سب عبوری دور سے متعلق ہیں۔9 - شریعت محمدیہ صرف آنحضرت صلی اینم کے عہد مبارک کے لئے تھی نہ کہ ہر زمانے کے لئے۔بلکہ ہر زمانے کی شریعت وہ ہے جس کو اس عہد کا مرکز ملت اور اس کی مجلس شوریٰ مرتب و مدون کرے۔10۔مرکز ملت کو اختیار ہے کہ وہ عبادت، نماز ، روزہ ، معاملات، اخلاق، غرض ہر چیز جس میں چاہے رد و بدل کر سکتی ہے۔11۔مرکز ملت اپنے اپنے زمانے کے تقاضے کے ماتحت نماز کی کسی شکل میں رد و بدل کر سکتی ہے۔12۔حدیث بجمی سازش ہے۔13۔جنت و جہنم مقامات نہیں انسانی ذات کی کیفیات ہیں۔14۔جبرائیل انکشاف حقیقت کا نام ہے۔15 - تقدیر کا مسئلہ ایمانیات میں مجوسی اساور ہ کا داخل کیا ہوا ہے۔16۔ثواب کی نیت اور وزن اعمال کا عقیدہ رکھنا ایک افیون ہے جو مسلمانوں کو پلائی گئی ہے۔17۔انسان کی پیدائش آدم و حوا سے نہیں ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے مطابق ہوئی۔18۔نماز پوجا پاٹ ، روزہ برت اور حج یا ترا ہے۔اور اب یہ تمام عبادات اس لئے سر انجام دی جاتی ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے ورنہ ان امور کونہ افادیت سے کچھ تعلق ہے اور نہ عقل سے کچھ واسطہ۔