کافر کون؟ — Page 205
205 نبی کریم کی گستاخ، ضال مضلل ، 30 دجالوں میں سے ایک دجال۔مودودی صاحب کو، گمراہ ، کافر ، خارج از اسلام، ان کے پیچھے نماز حرام، ان سے تعلق رکھنا صریح کفر اور ضلالت، امریکہ اور سرمایہ داروں کے ایجنٹ، یہ جماعت اپنے اسلاف ( یعنی مرزائیوں) سے بھی زیادہ ضرر رساں، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑیں کاٹنے والی، مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والی خبیث باطن، دین کے قصر کو ڈھانے والے، گمراہوں کی جڑ۔مودودی تحریک مہلک زہر قاتل - گمراه مثل معتزلہ، خوارج، روافض، قادیانی ، چکڑالوی ،مشرقی، نیچری مهدوی اور بہائی ہے۔وغیرہ وغیرہ قرار دیتے رہے ہیں مگر الحمد للہ۔آج کے بعد۔” کفر احمدیت کی برکت سے 72 مسلمان فرقوں کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر صرف ایک فرقے کو کافر قرار دینے کے بعد یہ جنگ بھی ختم کی جاتی ہے۔آج کے بعد جماعت اسلامی کے درج ذیل عقائد عین اسلامی اور مومنانہ ہیں۔یا اور بھی جو چاہیں عقیدہ رکھیں۔کسی ایسے عقیدہ کی بناء پر آئندہ انہیں مندرجہ بالا القابات سے یاد نہیں کیا جائے گا۔جماعت اسلامی کے عقائد و عمال و افعال ماضی میں دیگر علماء کی نظر میں حضرت عثمان حضرت شیخین کی پالیسیوں سے دور ہٹ گئے و لیکن ان (حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ) کے بعد عثمان جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ اس پالیسی (شیخین ) سے ہٹتے چلے گئے۔(معاذ اللہ ) ( کتاب خلافت و ملوکیت مؤلف مولوی مودودی صاحب صفحہ 106 مطبع ڈے ٹائم پر نٹر لاہور ناشر ادارہ ترجمان القرآن غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور ) حضرت عثمان نے بلاشبہ غلط کام کئے اور غلط کام غلط ہوتا ہے حضرت عثمان کی پالیسی کا یہ پہلو بلا شبہ غلط تھا اور غلط کام بہر حال غلط ہوتا ہے خواہ کسی نے کیا ہو۔اس کو خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا نہ عقل وانصاف کا تقاضا ہے اور نہ ہی دین کا مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ مانا جائے“۔(معاذ اللہ ) کتاب خلافت و ملوکیت مؤلف مولوی مودودی صاحب صفحہ 116 مطبع ڈے ٹائم پر نٹر لاہور ناشر ادارہ ترجمان القرآن غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور ) حضرت علی نے بھی ایک ایسا غلط کام کیا جس کو غلط کہنے کے سوا چارہ نہیں حضرت علی کی ایک چیز ایسی ہے کہ جس کی مدافعت میں مشکل ہی سے کوئی بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ جنگ جمل کے بعد انہوں نے قاتلین عثمان کے بارے میں اپنا رویہ بدل لیا۔حضرت علی کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا چارہ نہیں“۔