کافر کون؟ — Page 188
188 (روز نامه الجمیعہ دہلی کا شیخ الاسلام نمبر صفحہ 147 روایت مولوی جمیل الرحمن سیوہاروی مفتی دار العلوم دیوبند ) 68۔ایک ہی وقت میں کئی جگہ جسمانی ظہور مولوی حسین احمد مدنی کے ایک مرید آسام کی پہاڑیوں میں کار پر جارہے تھے راستہ صرف گاڑی کے چلنے کا تھا اچانک سامنے سے ایک تیز رفتار گھوڑ سوار نمودار ہوا خطرہ تھا کہ گھوڑا گاڑی پر چڑھ جائے گا۔آگے کا واقعہ سینے : اس شخص نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر پیر ومرشد (مولوی حسین احمد مدنی ) ہوتے دعا کرتے۔ابھی اتنا سوچا ہی تھا کہ حضرت شیخ گھوڑے کی لگام پکڑ کہیں غائب ہو گئے۔“ انفاس قدسیه از دیوبندی رہنما مفتی عزیز الرحمن بجنوری شائع کردہ مدینہ بک ڈپو بجنور ) 69۔ایک ہی وقت میں کئی جگہ جسمانی ظہور حضرت شاہ حاجی امداد اللہ کے آخری دنوں کا واقعہ سنیے آپ کے دومریدوں نے یوم عرفات کے دن سوچا کہ مراقبہ سے پتا چلایا جائے کہ آج حضرت شاہ صاحب کہاں ہیں آگے کا واقعہ درج ہے۔انہوں نے مراقب ہو کر دیکھا کہ حضرت جبل عرفات کے نیچے تشریف رکھتے ہیں۔ہم لوگوں نے بعد عرض کیا کہ آپ یوم عرفات میں کہاں تھے حضرت نے فرمایا کہ کہیں بھی نہیں مکان پر تھا۔ہم لوگوں نے عرض کی کہ حضرت آپ تو فلاں جگہ تشریف رکھتے حضرت نے فرمایا کہ یا اللہ لوگ کہیں بھی چھپا نہیں رہنے دیتے۔“ کرامات امداد یہ شائع کردہ کتب خانہ ہادی دیو بند صفحه 20) 70۔ایک ہی وقت میں کئی جگہ جسمانی ظہور ایک دیو بندی بھائی کسی سمندری جہاز میں سفر کر رہے تھے کہ طوفان آ گیا قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا آگے کا واقعہ خود راوی کی زبانی سنیے : انہوں نے جب دیکھا کہ اب مرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔اس مایوسانہ حالت میں گھبرا کر اپنے روشن ضمیر پیر (حضرت مولانا شاہ حاجی امداد اللہ ) کی طرف خیال کیا۔اس وقت سے زیادہ اور کون سا امداد کا وقت ہوگا۔اللہ سمیع و بصیر اور کار ساز مطلق ہے۔اسی وقت آگبوٹ غرق سے نکل گیا اور تمام لوگوں کو نجات ملی۔ادھر تو یہ قصہ پیش آیا ادھر اگلے روز مخدوم جہاں اپنے خادم سے بولے ذرا میری کمر دباؤ نہایت درد کرتی ہے خادم نے دباتے دباتے پیراہن مبارک جو اٹھایا تو دیکھا کہ کمر چھلی ہوئی ہے اور اکثر جگہ سے کھال اتر گئی ہے۔پوچھا حضرت یہ کیا بات ہے کمر کیوں چھلی ہوئی ہے فرمایا کچھ نہیں پھر پوچھا آپ خاموش رہے تیسری مرتبہ پھر دریافت کیا حضرت یہ تو کہیں رگڑ لگی ہے اور آپ تو کہیں تشریف بھی نہیں لے گئے۔فرمایا: