کافر کون؟ — Page 185
185 کے باہر سڑک پر ہر آنے جانے والا ان کو نظر آتا تھا۔( حاشیہ سوانح قاسمی جلد 2 صفحہ 73 ) 50۔ایک عجیب واقعہ (1857ء میں ) انگریزوں کے مقابل میں جو لوگ لڑ رہے تھے ان میں حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی بھی تھے اچانک ایک دن مولانا کو دیکھا گیا کہ خود بھاگے جارہے ہیں اور کسی چودھری کا نام لیکر جو باغیوں کی فوج کی افسری کر رہے تھے کہتے جاتے تھے کہ لڑنے کا کیا فائدہ خضر کو تو میں انگریزوں کی صف میں پارہا ہوں۔( حاشیہ سوانح قاسمی جلد 2 صفحہ 103 ) 51۔1857ء میں خدا تعالیٰ نے حضرت خضر" کو حکم دیا کہ انگریز کے گھوڑے کی باگ تھام کر چلے چنانچہ حضرت مولا نا فضل الرحمن کے پوچھنے پر بتایا کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہی یہی ہے۔( حاشیہ سوانح قاسمی صفحہ 103 ) 52۔حضرت مولانا قاسم نانوتوی اپنے ایک شاگرد کو جو کسی لڑکے پر عاشق تھا اور اس سے تنگ تھا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ کے ساتھ رگڑا۔وہ راوی کہتا ہے کہ : خدا قسم ! میں نے بالکل عیانا ( کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چہار طرف نور اور روشنی نے میرا احاطہ کر لیا گویا میں در بارالہی میں حاضر ہو گیا۔(ارواح شاہ صفحہ 247) 53۔حضرت مولانا قاسم نانوتوی دلوں کے بھید جانتے تھے۔54۔آپ کے ساتھ شیعہ لوگوں نے مذاق کیا اور ایک زندہ لڑکے کو رکھ کر نماز جنازہ پڑھنے کا کہا۔جب جنازہ ختم ہوا تو واقعی مر چکا تھا آپ نے غصے کی حالت میں فرمایا اب یہ قیامت تک نہیں اٹھ سکے گا۔( حاشیہ سوانح قاسمی جلد 2 صفحہ 71) 55۔حضرت مولانا قاسم نانوتوی کی قبر کسی نبی کی قبر میں ہے۔مبشرات صفحہ 36 از مولانا انوارالحسن ہاشمی ) 56۔دیو بندی قبرستان جس میں محمود الحسن، مولانا حبیب الرحمن وغیرہ دفن ہیں کے بارے میں عقیدہ ہے کہ اس حصے میں جو بھی دفن ہوگا انشاء اللہ مغفور ہے۔(مبشرات صفحہ 31 ) 57۔حضرت مولانا قاسم نانوتوی کے قلب پر وہی بوجھ آتا تھا جو آنحضور صلی یہ مہم کے دل پر وحی کے وقت آتا تھا۔اس بوجھ کے بارے دیو بندی عقیدہ یہ ہے کہ ”تم سے حق تعالیٰ کو وہ کام لینا ہے جو نبیوں سے لیا جاتا ہے۔“