کافر کون؟ — Page 175
175 مستقل تفریق کا موجب ہوسکتا ہے“۔(صفحہ 44) یعنی امتی نبی۔امام مہدی، یا کسی بھی آسمانی مصلح کے انکار کی برکت سے ہی یہ تحفہ امت کومل سکتا تھا۔اور اگر یہ دروازہ بند نہ کیا جا تاتو یہ آزادی کیسے ممکن تھی۔کہ جو چاہے عقیدہ رکھو اور جو چاہے فرقہ بنالو۔چنانچہ آپ مزید فرماتے ہیں: یہ وحدت امت کو کبھی نصیب نہ ہو سکتی تھی اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا کیونکہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ وو پارہ ہوتی رہتی۔(صفحہ 44) کسی امتی نبی کی آمد سے امت مسلمہ کو کیا فائدہ ہوگا؟ سوائے اس کے کہ تفرقہ سازی جیسی مکروہ۔۔۔۔۔۔رسم کو ہی مزید ہوا ملے گی۔۔۔آپ مزید غور کرنے کے بعد اس نکتے پر پہنچتے ہیں کہ کسی بھی نئے مصلح کی آمد کا کوئی مفید حاصل تو ہو نہیں سکتا ماسوائے اس کے کہ وہ تفرقہ سازی میں مزید اضافہ کرنے والا ہوگا۔اور ہمارے موجودہ فرقوں اور ہمارے موجودہ عقائد کے خلاف رد عمل ظاہر کرنے کی وجہ سے ہم اہل ایمان کی وحدت کو توڑنے والا ہی ہوگا۔اس لیے آپ فرماتے ہیں: آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہ دے گی نبوت کا دروازہ بند ہو جانا چاہیے تا کہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لیے ( تمام فرقوں کے ناقل ) اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے۔اور بلاضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت (بریلوی ، دیوبندی، اہل حدیث، اہل قرآن ، اہل تشیع وغیرہ) میں بار بار تفرقہ 66 برپا نہ ہوتا رہے۔کفر و ایمان کی کشمکش سے مکمل آزادی (صفحہ 45) یوں آپ آخری فیصلہ کے طور پر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اگر صرف کہیں امتی نبی یا واجب الاطاعت مصلح کی آمد کا انکار کر دیا جائے تو حتمی طور پر ایک Long life رحمت کے طور پر یہ بات بھی ہاتھ آجاتی ہے کہ اس طرح سب فرقوں کے سب عقائد مشرف بہ اسلام ہو جائیں گے چنانچہ آپ فرماتے ہیں: اس کی رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر و ایمان کی کشمکش میں مبتلا کرے اور انہیں ایک امت نہ بننے دے“۔(صفحہ 45)