کافر کون؟ — Page 140
140 انصاف اگر رخصت نہیں ہو گیا ہے تو اب اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ قادیان اور دیو بند ایک تصویر کے دورخ ہیں۔ایک ہی منزل کے دو مسافر ہیں کوئی پہنچ گیا ہے کوئی رہ گزر میں ہے۔پس۔۔۔۔اگر قادیانی جماعت کو منکر ختم نبوت کہنا امر واقعہ ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس انکار کی بنیاد پر دیو بندی جماعت کو بھی منکر ختم نبوت نہ قرار دیا جائے۔غور فرمائیے! جب دیوبندی جماعت کے ہاں بھی بغیر کسی قباحت کے حضور کے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہو سکتا ہے تو قادیانی جماعت کا اس سے زیادہ اور قصور ہی کیا ہے کہ جو چیز اہل دیوبند کے نزدیک جائز وممکن تھی اسے انہوں نے واقع بنالیا۔اسلامی دنیا کا جو الزام قادیانی جماعت پر ہے وہی الزام دیو بندی جماعت پر بھی عائد کیا جائے“۔( دیوبندی ادارے۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تبلیغی جماعت سپاہ صحابہ ) (زیروز برصفحه 122 تا126 شائع کردہ رومی پبلیکیشنز 38 اردو بازار لاہور ) مذہب میں مرے شیخ کے اتنا ہی فرق ہے میں ہاتھ میں رکھوں تو وہ آستیں میں بت شیخ اتنا بریلوی بھائیوں کے حالیہ چیخ و پکار میری مشکلات کو کم کرنے کی بجائے بڑھارہی ہیں وہ اس طرح سے کہ ایک طرف دیوبندی علماء دین نے باوجود اس علم کے کہ جماعت احمد یہ ختم نبوت کے مفہوم میں انہیں کے بزرگوں کے موقف پر ہیں، پر منکر ختم نبوت کا جھوٹا الزام لگایا اور تقریر وتحریر سے خوب پرو پیگنڈہ کیا اور اسی بنیاد پر انہیں قومی اسمبلی سے غیر مسلم قرار دلوایا۔دوسری طرف بریلوی علماء دین با وجود اس علم کے کہ دیوبندی جھوٹ بول رہے ہیں اور جماعت احمد یہ اور دیوبندیوں کا ختم نبوت کا مفہوم یکساں ہے خاموش رہے۔اور نہ صرف خاموش رہے بلکہ اسی الزام کی بنیاد پر جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے والی مہم میں دیوبندی لیڈروں کی ماتحتی میں شانہ بشانہ کام کیا۔اور آج بیسوں سال بعد خود اپنے آپ سے بڑبڑا رہے ہیں کہ اگر قادیانی جماعت کو منکر نبوت کہنا امر واقعہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسی انکار کی بنیاد پر دیوبندی جماعت کو بھی منکر ختم نبوت قرار نہ دیا جائے“۔( زیروز بر صفحه 126 ) مذہبی دنیا میں حالات سے اتنا بڑا سمجھوتا یا اتنا بھیا نک مذاق ہی میری ستائیسویں مشکل بن گیا۔