کافر کون؟

by Other Authors

Page 121 of 524

کافر کون؟ — Page 121

121 مشکل نمبر 21 ختم نبوت کا پرانا اور گھر یلو استعمال کے لئے مذہبی مفہوم جماعت احمدیہ کی مخالفت Not a full time job مطلب یہ کہ صرف ایک دشمنی کی خاطر عقائد تو نہیں بدلے جا سکتے اس لئے مندرجہ بالا تعریف کو صرف سیاسی پس منظر کے ساتھ لکھا پڑھا اور سمجھا جائے۔گھروں میں دینی عقائد کے طور پر ہم اپنے بچوں کو ختم نبوت کا مندرجہ ذیل مفہوم پڑھاتے ہیں۔شروعات اسی پلیٹ فارم سے کرتے ہیں جس نے قومی اسمبلی میں تیسری ترمیم پاس کرانے کی سرتوڑ کوشش کر کے اسے کامیابی کی منزل تک پہنچایا یعنی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے۔1 - ختم نبوت یعنی مطلق آخری نبی کے باوجود امت محمدیہ میں ایک نبی ضرور آئے گا اور ایسا عقیدہ نہ رکھنے والا کافر۔۔۔۔۔کیسا لگا؟ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان کا شائع کردہ رسالہ ”نزول عیسی چند شہبات کا ازالہ میرے سامنے ہے جسے جماعت کے اشد مخالف مولانا یوسف لدھیانوی صاحب نے تحریر کیا ہے۔مولوی صاحب پر کسی نے اعتراض کیا کہ قرآنی آیات خاتم النبین اور حدیث لا نبی بعدی کے بعد امت میں مطلق کسی نبی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔جواب تھا: آپ کا یہ ارشاد کہ قرآنی آیات خاتم النبین اور حدیث لا نبی بعدی میں انقطاع نبوت کا ذکر ہے۔لانبی بعدی میں رانی جنس ہے چونکہ نکرہ پر داخل ہے جس کا معنی یہ ہے کہ ہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے نہ پرانا نبوت ہر قسم کی بند ہے۔آپ کا جواب غور سے پڑھیے اور ذہن میں سیاسی تعریف کو بھی رکھیے۔جناب کو اس جگہ متعدد غلط فہمیاں ہوئی ہیں اول یہ کہ جس طرح ختم نبوت کی احادیث متواتر ہیں ٹھیک اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام ( نبی اللہ ) کے دوبارہ آنے کی حدیث بھی متواتر ہیں“۔(صفحہ 41-42) یہ عقیدہ نماز روزہ اور حج کی طرح متواتر اور قطعی ہے اس لئے اس کے منکر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ نویں صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطی اپنے رسالہ الاعلام بحكم عليه السلام میں ایک معترض کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں۔۔۔مجھے دو سے ایک صورت لازم آئے گی یا یہ کہ نزول عیسی کی نفی کر و یا بوقت نزول ان سے نبوت کی نفی کرو اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔لا پھر اسی صفحہ پر علامہ سفارینی کو بھی مزید اپنے موقف پیش کر کے لکھتے ہیں۔(صفحہ 5-6)