کافر کون؟

by Other Authors

Page 117 of 524

کافر کون؟ — Page 117

117 لکھا جو تقریظ کی صورت میں اس کتاب میں شامل ہے۔محترم السيد الاستاد المکرم محمد عظیم الدین صدیقی صاحب سلام مسنون خط ملا۔آج ہی شیخ القرآن ( مولوی غلام اللہ خان راولپنڈی) سے بات کی کتاب حیات سید نا یزید ان کو ابھی تک نہیں ملی۔تبصرہ اور رائے کی درخواست بھی کی۔انہوں نے قبول فرمالیا۔ویسے بھی وہ حضرت امیر یزید کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو ہمارا ہے۔لیکن وہ بھی میری ہی طرح بر ملا اظہار بوجوہ نہیں کرتے نہ معلوم ہماری کب چلے گی؟ کوئی آنے والا نہیں ورنہ دستی کتب منگوا تا۔والسلام محمد عبد الله خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد یہ تھا وہ اختلاف اور جھگڑا۔۔۔ان دو بلند قامت دیو بندی علماء کے درمیان۔اب مولوی عبد اللہ صاحب امام لال مسجد نے اپنے آپ کو دبتے دیکھا تو انہوں نے ایک انوکھا ا ؤ گا یا اور پینترا بدل کر اس ساری بازی کو پلٹ کر رکھ دیا۔مولا نا محمد موسیٰ خود اس کشتی کا حال سناتے ہوئے فرماتے ہیں: قصہ یوں ہوا کہ ایک مرتبہ مولانا محمد عبد اللہ کو ان کے مؤقف ( یعنی یزید) کے ناحق ہونے کے دلائل پیش کئے تو وہ ناراض ہو گئے اور آں مرحوم نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی دلدل میں پھنساؤں گا کہ قیامت تک یاد کرو گے۔اور پھر واقعی مولانا عبداللہ نے مولانا بھٹو کو اس دلدل میں پھنسا دیا۔کس طرح پھنسایا ؟ ان پر احمدی ہونے کا الزام لگا دیا۔بس اس کے بعد جہاں میرا ذ کر ہوتا تو فرماتے میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ شخص قادیانی ہے البتہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ قادیانی ہے۔اور کبھی کبھی یہ کہتے کہ بھئی لوگ کہتے ہیں ان کے قادیانیوں سے تعلقات ہیں“ اور پھر کیا تھا مولوی محمد موسیٰ صاحب بیچارے کو اپنی ہی پڑ گئی۔ہر محفل میں وضاحتیں کرتے نظر آتے کہ میں قادیانی نہیں ہوں۔میں الحمدللہ مسلمان ہوں۔میں الحمد للہ مسلمان ہوں۔میں الحمد للہ یہ ہوں۔میں الحمد للہ وہ ہوں۔یوں پھر یزید کے خلاف بات کیا کر نا تھی اپنے ہی مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کے لئے تڑپتے نظر آنے لگے۔“ (ماہنامہ بیداری ص 52 شمارہ مئی 2010 مضمون نگار محمد موسیٰ بھٹو لا ہور ) یہی وہ کہانی ہے جو ذرا سے کردار بدل کر مجھے وفات مسیح کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں نظر آتی ہے۔